لندن میں حکومت کے خلاف احتجاج، گرفتار افراد ضمانت پر رہا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ احتجاج جمعرات کو برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے بعد ہوا

برطانیہ میں کٹوتیوں اور سادگی کی پالیسی کے خلاف برطانوی وزیرِاعظم کے دفتر کے قریب ہونے والے احتجاج اور پولیس سے جھڑپوں کے نتیجے میں پندرہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان میں ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔

وزیراعظم کے دفتر کے باہر ہونے والی ریلی میں کسی گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے تیار پولیس اور ریلی میں شریک احتجاج کرنے والوں میں کچھ مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔مظاہرین نے پولیس پر مختلف چیزیں پھینکیں۔

یہ احتجاج جمعرات کو برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے بعد ہوا۔

لندن میں میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق اس واقعے میں چار پولیس افسران اور پولیس کے عملے کا ایک رکن زخمی ہوا۔

میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ جن 15 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے 14 کوانکوائری پوری ہونے تک ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ اس دوران پولیس صورتِ حال سے مکمل آگہی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی دیکھے گی ۔

پولیس نے بتایا ہے کہ اس نے گرفتار شدگان میں 24 برس کے ایک شخص کو ابھی تک حراست میں رکھا ہوا ہے جس پر شبہہ ہے کہ اس نے پولیس پر حملہ کیا۔

اسی ہلے گلے کے دوران لندن ہی میں جنگ کی ایک یادگار پر ’نکمے بیکار ٹوری‘ بھی لکھ دیا گیا جس پر تحقیقات شروع کر دی گئ ہیں۔

جس یادگار پر سپرے کر کے ٹوری پارٹی کے خلاف جملہ لکھا گیا وہ خواتین سے متعلق جنگ کی یادگار کہلاتی ہے اور لندن کے وائٹ ہال میں واقع ہے۔ یہ مقام اس جگہ سے چند گز کے فاصلے پر ہے جہاں سنیچر کو جنگِ عظیم دوئم کے خاتمے کے ستّر برس مکمل ہونے پر موسیقی کا ایک پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چیف سپرنٹینڈینٹ جیری کیمپبیل کا کہنا تھا ’مظاہرین کی ایک بڑی اکثریت‘ ریلی میں پُر امن طور پر شریک تھی لیکن ’چند افراد‘ نے امن برباد کرنے کی ٹھان رکھی تھی

برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے جنگ کی یادگار کے تقدس کو خراب کرنے پر کہا ’ یہ ملک کے لیے لڑنے اور جان دینے والوں کی توہین ہے اورایک قابلِ نفرت عمل ہے۔‘

سینکڑوں افراد پر مشتمل یہ ریلی سنیچر کو کنزرویٹو پارٹی کے صدر دفتر کے باہر شروع ہوئی جس کے کچھ شرکاء نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’میں مزاحمت کا عہد کرتا ہوں‘ اور ’کٹوتیاں روکو‘ جیسے نعرے درج تھے۔

میٹروپولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ 12 افراد کو تشدد، نقصِ امن کے شبہے اور تین کو پولیس پر حملے کے الزام میں گرفتار کیاگیا تھا۔ پولیس پر پھینکے جانے والی اشیا میں ٹریفک کو خاص سمت میں چلانے کے لیے سڑک پر رکھے جانے والے مخروطی کونز اور سموک بم شامل ہیں۔

بیان کے مطابق ’ایک افسر کا کندھا اتر گیا جبکہ پولیس کے عملے کے ایک رکن کے منہہ پر کوئی چیز ماری گئی۔ دونوں کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ تین دیگر افسران پر حملہ کیا گیا لیکن انھیں ہسپتال بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ احتجاج کرنے والوں میں سے کسی ایک کے بھی زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔‘

چیف سپرنٹینڈینٹ جیری کیمپبیل کا کہنا تھا ’مظاہرین کی ایک بڑی اکثریت‘ ریلی میں پُر امن طور پر شریک تھی لیکن ’چند افراد‘ نے امن برباد کرنے کی ٹھان رکھی تھی۔’ہم نے جنگِ عظیم دوئم کی خواتین کی یادگار کو نقصان پہنچانے پر مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ یہ خاص طور پر قابلِ نفرت ہے کیونکہ ہم جنگ کے خاتمے کی ستّرویں تقریب منا رہے ہیں۔‘

کارڈف شہر میں بھی دو سو کے قریب افراد نے اسی طرح کی ریلی میں شرکت کی جس میں گلوکارہ شارلٹ چرچ شریک ہوئیں۔ انھوں نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر درج تھا ’میں غصے سے پاگل ہوں۔‘

اسی بارے میں