روہنجیا تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے بچا لی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس کشتی پر کئی خواتین اور بچے بھے سوار تھے

انڈوینشیا کے شمالی ساحلوں کے قریب سمندر میں پھنسی مسافر کشتی کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا ہے۔ مسافر کشتی پر برما کی روہنجیا مسلمان برادری کے تقریباً پانچ سو افراد سوار تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشتی پر کئی خواتین اور بچے بھے سوار تھے اور انھیں اس وقت بچایا گیا جب یہ انڈونیشیا کے صوبے ایکے کے ساحل سے کچھ دور پانی میں پھنس گئی تھی۔

یاد رہے کہ میانمار یا برما میں روہنجیا مسلمانوں کو ملک کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا اور حالیہ برسوں میں ہزارہا روہنجیا تعصب سے مجبور ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

برما سے فرار ہونے والے روہنجیا مسلمان اکثر تھائی لینڈ اور برما کی درمیانی سرحد پر واقع جنگل کے راستے ملک سے نکلتے ہیں تاہم ان کی ایک بڑی تعداد سمندر کے راستے بھی فرار ہوتی رہی ہے۔

خبر رسان ادارے اے ایف پی کے مطابق صوبہ ایکے کے امدادی ادارے کے سربراہ نے بتایا کہ انھیں اتوار کی صبح اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ سمندر میں ایک کشتی پھنسی ہوئی ہے جس پر کئی لوگ سوار ہیں۔

’ہم نے اپنی ٹیمیں اس جانب روانہ کر دیں جنھوں نے 469 غیر قانونی تارکین وطن کو بچایا لیا۔ یہ لوگ برما کے روہنجیا ہیں اور کشتی پر بنگلہ دیشی بھی سوار تھے۔ ہماری اطلاع کے مطابق ان تمام لوگوں کو بچا لیا گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں برما پر زور دیا گیا تھا کہ وہ روہنجیوں کو شہری حقوق فراہم کرے۔

اس سے قبل مارچ سنہ 2014 میں برما میں حکام نے گذشتہ تین دہائیوں میں پہلی بار مردم شماری کا کام شروع کیا تھا تاہم انھوں نے روہنجیا اقلیت کے اندراج سے انکار کر دیا تھا۔

اس پر اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ برما کے تمام باشندوں کو اپنی نسلی شناخت کے انتخاب کی آزادی ہونی چاہیے۔

اقوام متحدہ نے اس مردم شماری میں برما کی حکومت کو تعاون فراہم کیا تھا۔اس کے باوجود برما کے حکام کا کہنا تھا کہ روہنجیا مسلمان خود کو بنگالی مسلمان کے طور پر رجسٹر کروائیں ورنہ ان کا اندراج نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں