ترکی کے سابق فوجی آمر کنعان ایورن انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت کا تختہ النٹے کے بعدجنرل کنعان اورن نو سال تک صدر رہے

ترکی کے سابق صدر کنعان ایورن کا انتقال ہوگیا ہے۔

انھوں نے 12 ستمبر سنہ 1980 کو فوجی جنرل کی حیثیت سے حکومت کا تخت الٹ دیا تھا اور اس کے بعد مسلسل نو سال تک ملک کے صدر رہے۔

سنہ 1990 کی دہائی میں کنعان ایورن پر مقدمات کا آغاز ہوا اور گذشتہ برس ہی انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان کی عمر 97 برس تھی اور ان کا انتقال انقرہ کے ایک ہسپتال میں ہوا۔

ترکی کے سابق صدر کنعان ایورن کی صحت سنہ 2012 میں خراب ہونی شروع ہوئی تھی جس کے بعد وہ علالت کے باعث عدالت میں پیش بھی نہیں ہو سکے تھے۔

خیال رہے کہ ان کی جانب سے لگائے جانے والے مارشل لا کے دور میں کم ازکم چھ لاکھ افراد کو قید میں ڈالا گیا تھا جبکہ 50 افراد کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔

اس عرصے میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ بائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں کو بھی بہت زیادہ نشانہ بنایا گیا تھا۔

پشیمانی نہ تھی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2012 میں انھیں عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تاہم اس وقت وہ علالت کے باعث کمرہ عدالت میں موجود نہ تھے

ترکی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار گونے یلدز کہتے ہیں کہ جدید ترکی کی تاریخ میں نافذ کیے جانے والے وحشیانہ مارشل لا پر کنعان ایورن نے کبھی بھی افسوس کا اظہار نہیں کیا تھا۔

اگرچہ ابتدا میں چند حلقوں کی جانب سے ملک میں فوجی حکومت کے آنے کا خیرمقدم کیا گیا تھا اور یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ اس سے ملک میں استحکام آئے گا تاہم سیاسی سطح پر اس سے نفرت کا اظہار کیا گیا۔

سابق صدر کا نام بائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ذہنوں میں گھٹن اور اذیت پر مبنی یاد کی مانند ہے۔

کیا مارشل لا لگانے میں ملوث افراد کےخلاف قانونی کارروائی کی جائے جب یہ رائے جاننے کے لیے سنہ 2010 میں عوامی ریفرنڈم کروایا گیا تو عوام کی اکثریت نے اس کی حمایت کی۔

ایورن اپنی زندگی کے اختتام تک ترکی میں فوجی حکومت کی ایک علامت رہے تاہم بہت سے لوگ ایسے ہیں جنھیں سابق صدر کے گزر جانے پر کوئی افسوس نہیں۔

1980 کا فوجی انقلاب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سابق صدر کنعان کے ہمراہ وزیراعظم طیب اردگان

12 ستمبر سنہ 1980 کو فوجی جنرل کی جانب سے لگایا جانے والا مارشل لا ترکی کی تاریخ کا خونی دور کہلاتا ہے اور وہ فوج کی سیاست پر طویل غلبے کی علامت بھی تھا۔

جنرل ایورن کا خیال تھا کہ ان کے اقدامات نے ملک کو سیاسی انتہاپسندی کی لڑائی سے محفوظ رکھا ہے۔

سنہ 1984 میں ایک تقریر کے دوران سابق صدر نے سیاسی کارکنوں کو پھانسی دیے جانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے عوام سے ایک سوال کیا کہ ’کیا ہمیں انھیں لٹکانے کے بجائے کئی سال تک جیلوں میں پالنا چاہیے۔‘

استثنیٰ کا خاتمہ

قتل اور تشدد کے الزامات کے باوجود یہ بات غیر معمولی نظر آتی تھی کہ کبھی سابق صدر کو مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

مگر پھر صدر کو مقدمات سے استثنٰی کی دفعہ کو سنہ 2010 کے عوامی ریفرنڈم کے بعد ختم کر دیا گیا اور یہ قدم ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے اٹھایا جس کا مقصد فوجی اختیارات کو قابو میں رکھنا تھا۔

یوں گذشتہ برس سابق صدر کو ریاست کے خلاف جرائم، فوجی مداخلت اور انقلاب کے جرم میں سزا سنائی۔

اقتدار کا عروج

تصویر کے کاپی رائٹ hurriyet.com.tr
Image caption انھوں نے فوجی انقلاب اور اس کے بعد اپنے دورِ حکومت میں سیاسی کارکنان پر ہونے والے تشدد اور انھیں دی جانےوالی پھانسیوں کا ہمیشہ دفاع کیا

جنرل ایورن نے فوجی اکیڈمی میں ایک افسر کی حیثیت سے اپنے کرئیر کا آغاز کیا تھا۔ پھر وہ جنرل بنے اور اس کے بعد انھیں چیف آف جنرل سٹاف کا عہدہ ملا۔

ترکی میں سنہ 1980 کے انقلاب سے پہلے کے سالوں میں انتہائی بائیں اور دائیں بازو کے خیالات کے حامی افراد گلیوں میں باہم لڑائی میں مصروف تھے۔ اور فوج نے اسی صورتحال کو جواز بنایا اور کہا کہ حکومت اسے قابو کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

فوجی انقلاب کے بعد ملکی پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی اور جنرل کنعان ایرون نے قومی سکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے ملک کی باگ دوڑ سنھبال لی۔

کونسل نے نیا آئین بنایا اور اسے ریفرنڈم کے ذریعے عوامی منظوری ملی اور یوں کنعان ارون سات سال کے لیے ملک کے صدر بن گئے۔

اس دوران ملک میں پارلیمانی انتخابات بھی منعقد ہوئے اور ترکی نے یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت کے لیے درخواست دی۔

عہدہ صدارت ختم ہونے سے قبل کنعان ایورن پر دو بار قاتلانہ حملہ ہوا جسے ناکام بنا دیا گیا۔

اسی بارے میں