’سعودی عرب کا جنگ بندی کا اعلان صرف میڈیا تک ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کے یمن میں امدادی کاموں کے نمائندے جوہانز وین ڈی کلو نے کہا ہے کہ ان کو شمالی یمن میں تازہ ترین بمباری پر تشویش ہے

سعودی عرب کی جانب سے یمن میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کی پیشکش پر حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یہ جنگ شروع کی ہے اور وہ ہی اسے ختم کر سکتا ہے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سرگرم حوثی کارکن حسین البخیتی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان صرف میڈیا کو دکھانے کے لیے ہے اور اس سے زمینی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار اطہر کاظمی سے بات کرتے ہوئے حوثی کارکن حسین البخیتی نے کہا کہ ’یمن کے موجودہ انسانی بحران کا ذمہ دار سعودی عرب ہے ، یمن میں ایندھن ادویات اور اشیائے خوردونوش کی کمی، گذشتہ چار پانچ سال سے جاری مختلف سیاسی طاقتوں کے درمیان لڑائی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ وہ جنگ ہے جو 26 مارچ سے سعودی عرب نے ہم پر مسلط کر رکھی ہے۔‘

’اگر وہ بحری ناکہ بندی ختم کردے تو ادویات اور خوراک با آسانی یمن آسکیں گی۔‘

12 مئی سے شروع ہونے والی اس جنگ بندی کے اعلان کے بارے میں حسین البخیتی کا مزید کہنا تھا کہ حوثی نہیں سمجھتے کہ سعودی عرب جنگ بندی کے بارے میں سنجیدہ ہے۔

’ہم اس پہلے دیکھ چکے ہیں کہ انھوں نے پہلے آپریشن ڈئزٹ سڑام کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ اسے نیا نام دے کر دوبارہ بمباری شروع کردی۔‘

دوسری جانب یمن جنگ میں حوثی باغیوں کی مدد کرنے والی باغی فوج نے سعودی عرب کی پیشکش کو منظور کرتے ہوئے پانچ روز کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو سعودی وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبير نے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں یمن میں 12 مئی سے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے حوثی جنگجوؤں اور ان کے اتحادیوں پر زور دیا تھا کہ وہ بھی جنگی کارروائیاں بند کر دیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق باغی فوج کے ترجمان کرنل شرف لقمان کی جانب سے جاری بیان میں سعودی عرب کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کو منظور کر لیا گیا ہے۔

تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ القاعدہ یا اس کے حامیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کیے جانے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاہدے کے لیے دوست ممالک کی جانب سے مصالحت کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے ہم معاہدے کا اعلان کرتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ یمن میں موجود باغی فوج سابق صدر عبداللہ صالح کے اقتدار کے بعد بھی ان کی حامی رہی اور اب تک کی کارروائیوں میں انھوں نے بہت سے علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’بہت سے عام شہری صعدہ میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایندھن کی کمی کے باعث ان کی ٹرانسپورٹ تک رسائی مشکل ہے‘

اس حوالے سے حوثی باغیوں کی جانب سے براہ راست کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اس سے قبل حوثی باغیوں کے ایک رہنما نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا تھا کہ ابھی تک سعودی عرب نے جنگ بندی کے لیے رسمی طور پر کوئی پیشکش نہیں کی۔

یمنی خبر رساں ایجنسی ’خبر‘ کے مطابق اتوار کی صبح صنعا میں سابق صدر عبداللہ صالح کے گھر پر بمباری ہوئی تاہم وہ اور ان کے اہلِ خانہ محفوظ رہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہفتے کو یمن پر 130 حملے کیے گئے جن میں باغیوں کی عمارتوں، اسلحہ ڈپو اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بریگیڈیئر جنرل احمد آسیری نے کہا کہ یہ حملے صعدہ سے سعودی عرب میں راکٹ فائر کرنے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ جمعہ کو سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ پورے صعدہ کو ’ملٹری زون‘ تصور کرتے ہیں اور عام شہری علاقہ چھوڑ دیں۔

خیال رہے کہ باغی فوج کے ترجمان کے بیان سے قبل یمن میں اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور اتحادیوں کی جانب سے آبادی والے علاقوں میں بلاتفریق بمباری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بمباری میں 1400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں آدھے لوگ عام شہری تھے۔

دوسری جانب بین الاقوامی تنظیم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ شمالی یمن کے علاقے صعدہ سے لوگوں کو نکلنے میں دشواری ہو رہی۔

ایم ایس ایف کی ٹیریسا سینکرسٹوول کا کہنا ہے کہ ایندھن کی کمی کے باعث شہریوں کو پیدل سفر اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔

اسی بارے میں