یمن: مراکش کا لڑاکا طیارہ لاپتہ

Image caption سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ صعدۃ شہر کو ملٹری زون کی نظر سے دیکھ رہے ہیں

سعودی عرب کی سربراہی میں یمن کے حوثی قبائل کے خلاف قائم اتحاد میں شامل مراکش کا ایک لڑاکا طیارہ لا پتہ ہو گیا ہے۔ شمالی افریقی ملک مراکش کی فضائیہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تعینات چھ میں سے ایک ایف سولہ طیارہ اتوار کی شام سے لا پتہ ہے۔

یہ طیارہ یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔

طیارے کے ساتھ ہی دوران پرواز دوسرے ایف سولہ طیارے کے پائلٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے لا پتہ طیارے کے پائلٹ کو جہاز سے چھلانگ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا۔

سعودی سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن میں منگل کو اپنی اعلان کردہ پانچ روزہ جنگ بندی سے ایک دن قبل پیر کو حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری جاری رکھی۔

یمن میں حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف برسریپیکار سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کا وہ مثبت انداز میں جواب دیں گے۔

سعودی عرب نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے لیے منگل سے پانچ روزہ جنگ بندی کی پیشکش کی تھی۔ لیکن ساتھ میں انھوں نے تنبیہہ جاری کی ہے کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک حوثی قبائل کے خلاف کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم چودہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حوثی باغیوں نے گزشتہ سال شمالی یمن سے اپنی مسلح کارروائیوں کا آغاز کیا تھا اور اب تک وہ یمن کے بڑے حصوں پر اپنا کنٹرول قائم کر چکے ہیں۔ سعودی عرب یمن کے جلاوطن صدر منصور ہادی کی حکومت بحال کرنا چاہتا ہے جو کہ رواں سال فروری میں دارالحکومت صنعاء پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد جلاوطن ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ نے یمن کے شمالی شہر صعدۃ کے ان علاقوں میں عام لوگوں کی حالت زار کو ابتر بتایا ہے

اتوار کی صبح باغیوں کے ٹی وی چینل المسیراح کا کہنا تھا کہ ’وہ لوگوں کی تکالیف ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہر اقدام یا مطالبے کا مثبت جواب دیں گے۔‘ بغاوت کر کے حوثی قبائل کا ساتھ دینے والے یمنی فوجیوں کے ترجمان پہلے ہی سعودی اتحاد کی جنگ بندی کی پیشکش قبول کر چکے ہیں۔

سعودی سربراہی میں قائم اتحاد نے اس سے قبل اکیس اپریل کو بھی یمن پر فضائی حملے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس فیصلے پر صرف چند گھنٹے ہی عمل درآمد کیا جاسکا تھا۔

ہسپتال پر بمباری:

دریں اثناء اقوام متحدہ نے یمن کے شمالی شہر صعدہ کے ان علاقوں میں عام لوگوں کی حالت زار کو ابتر بتایا ہے جو کہ حالیہ دنوں میں سعودی اتحاد کے نشانے پر رہے ہیں۔ یمن کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کے کوآرڈینیٹر جوہانس کلاؤو کے بقول صعدہ شہر میں ایندھن کی کمی کے باعث بہت سے عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔

طبی امداد فراہم کرنے والی تنظیم ایم اسی ایف کی کارکن ٹیریسا سینکرسٹوول کا جمعہ کو ہسپتال پر کی گئی بمباری کو بیان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ پانچ حاملہ خواتین کا علاج کر رہی تھیں، جن میں سے چار شدید بمباری کے باعث ہسپتال چھوڑ کر چلی گئیں۔

سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ صعدہ کو ملٹری زون کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو سعودی اتحاد نے فضا سے گرائی گئی پرچیوں کے ذریعے عام شہریوں کو شہر چھوڑنے کی تنبیہہ جاری کی تھی۔

اتوار کو سعودی اتحاد کی جانب سے دارالحکومت صنعاء میں حوثی باغیوں کے اتحادی یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے گھر پر بھی بمباری کی گئی لیکن اطلاعات کے مطابق وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

سعودی عرب کی ’سنی‘ حکومت ’شیعہ‘ ایران پر حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزامات لگاتا رہا ہے لیکن ’شیعہ‘ ایران اور خود خوثی باغی ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

اسی بارے میں