سکاچ وہسکی کے نقالوں سے نبردآزما ہونے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption ’سکاچ وہسکی صرف سکاٹ لینڈ میں تیار کی جاسکتی ہے‘

یہ دہائی سکاچ وہسکی کے لیے بہترین رہی، سکاٹ لینڈ میں شراب کشید کرنے والے 115 کارخانے دنیا بھر کی 200 منڈیوں کی پیاس بجھانے کے لیے دن رات اس پراڈکٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔

ہر سکینڈ میں سکاچ کی تقریباً 40 بوتلیں بیرونِ ملک بھیجی جاتی ہیں، اس کا برطانیہ کے اقتصادی حجم میں حصہ چار ارب پاؤنڈ ہے۔

تاہم اس کامیابی کی قیمت بھی انھیں چکانا پڑ رہی ہے۔

سکاچ وہسکی ایسوسی ایشن (ایس ڈبلیو اے) اب مسلسل دنیا بھر میں تیار ہونے والی وہسکی کو ’سکاچ‘ کے طور پر پیش کرنے کی راہ روکنے کی کوشش میں مگن ہے، تاکہ اپنا منافع بڑھایا جا سکے۔

ایک حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ گذشتہ برس ایسے 19 برانڈز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اجازت دی گئی جن میں بلجیئم ، چین، کراکاؤ، ایکواڈور، فرانس، جرمنی، بھارت، نیوزی لینڈ، ہالینڈ اور سکاٹ لینڈ شامل ہیں۔

سکاچ وہسکی جیوگرافیکل انڈیکیشن کے اصول کے تحت محفوظ ہے، جس کا مطلب ہے برطانوی قوانین کے مطابق یہ صرف سکاٹ لینڈ میں ہی تیار کی جا سکتی ہے۔

لیکن یہ نقل تیار کرنے والوں کو نہیں روک سکا، جو قانون کو کمال ہوشیاری سے چکمہ دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سکاچ وہسکی ایسوسی ایشن (ایس ڈبلیو اے) دنیا بھر میں تیار ہونے والی وہسکی کو ’سکاچ‘ کے طور پر پیش کرنے کی راہ روکنے کی کوشش کر رہی ہے

ایس ڈبلیو اے کے ڈائریکٹر برائے قانونی امور میگنس کورمیک کہتے ہیں کہ ان کا ادارہ اس وقت 60 سے 70 قانونی مقدمات 30 مختلف ممالک میں لڑنے کے ساتھ ساتھ 20 ملکوں میں 300 ٹریڈ مارکس کے خلاف بھی برسرپیکار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ معاملات کسی دوسرے برانڈ کی وہسکی کو سکاچ کے طور پر پیش کرنے جیسے سیدھے سادے فراڈ سے لے کر پراڈکٹ کی ظاہری حالت سکاچ کے جیسی بنانے پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ سال انھوں نے بلغاریہ کے ایک برانڈ ہائی لینڈر کے خلاف کارروائی کی تھی۔

اس کے لیبل پر بتایا گیا تھا کہ یہ پراڈکٹ ’گرین الکوحلک ڈرنک ود مالٹ‘ پر مشتمل ہے، جس پر سکاٹش شہنائی نواز ہائی لینڈ کے لباس میں ملبوس شخص اور سکاٹ لینڈ کے معروف قلعے ایلین ڈونن کی عکاسی کی گئی تھی۔

جب اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ یہ پراڈکٹ سکاچ وہسکی کے طور پر پیش کی جارہی ہے تو صوفیہ شہر کی عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا گیا۔ ایس ڈبلیو اے ہائی لینڈر کا نشان ملک کے ٹریڈ مارک رجسٹر سے نکوالنے میں کامیاب رہا۔

میگنس کورمیک کہتے ہیں: ’اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی ایک پراڈکٹ کو سکاچ وہسکی کے روپ پر پیش کر سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SAW
Image caption گذشتہ برس بھارت میں ٹارٹن ڈیزائن پر مشتمل سکاٹیا امپیریل یا سکوسیا امپیریل نامی وہسکی برانڈ پر پابندی عائد کے گئی

’بعض اوقات ایسے ممالک میں جہاں انگریزی زیادہ نہیں سمجھی جاتی وہاں صرف انگریزی زبان کا استعمال ذہانت سے کیا جاتا ہے۔ ان ممالک میں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہسکی کا لیبل انگریزی زبان ہونے کا مطلب ہے کہ یہ سکاچ وہسکی ہی ہے۔‘

سکاچ وہسکی ایسوسی ایشن کے قانونی شعبے کی ٹیم میں آٹھ ممبران شامل ہیں جن میں سے پانچ وکیل ہیں۔

انھوں نے ایک ٹریڈ مارک کا معائنہ کرنے والے ماہر کی خدمات بھی حاصل کی ہوئی ہیں جنھیں ہرماہ 400 سے زائد اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ وہ سکاچ وہسکی تیار کرنے والوں سے بھی معلومات حاصل کرتے ہیں جو عالمی منڈیوں میں جعلی پراڈکٹس کی نشاندہی کرتی ہیں۔

گذشتہ ایک دہائی میں بھارت نے دیگر ممالک کے مقابلے میں وکلا کو سب سے زیادہ مصروف رکھا۔ ایس ڈبلیو اے یہاں تقریباً ایک سو سے زیادہ ٹریڈ مارکس کی درخواستوں کی مخالفت کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SWA
Image caption فراڈ وہسکی کو سکاچ کے طور پر پیش کرنے سے لے کر پراڈکٹ کی ظاہری حالت سکاچ کے جیسی بنانے پر مشتمل ہو سکتے ہیں

گذشتہ برس بھارت میں ٹارٹن ڈیزائن پر مشتمل سکاٹیا امپیریل یا سکوسیا امپیریل نامی وہسکی برانڈ کو مارکیٹ میں پیش کرنے سے قبل ہی ایس ڈبلیو اے نے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تھی۔

اس کمپنی کا دعویٰ تھا کہ لغت کے مطابق ’سکاٹیا‘ ایک تعمیراتی اصطلاح ہے جس کے معنی ’کسی ستون کے نچلے حصے میں لگائی جانے والی سجاوٹی پٹی‘ کے ہیں اور یہ کہ ’روایتی طور پر شراب کشیدنے کے کارخانوں میں ستونوں کی ایسی ہی بنیادیں ہوتی ہیں۔‘

تاہم ایس ڈبلیو اے نے یہ مقدمہ شراب تیار کرنے والی کمپنی کے خلاف جیت لیا اور عدالت نے ان پر ’سکاٹیا‘ یا ‘سکوسیا‘ کے لفظ اور ٹارٹن ڈیزائن کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔

میگنس کورمک کہتے ہیں: ’لوگ ہوشیاری سے کئی دلائل پیش کرتے ہیں۔‘

’بھارت میں ایک برانڈ سکاچ ٹریئر کے نام سے ہے۔ اس مقدمے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا اپنی پراڈکٹ کو سکاچ وہسکی کے طور پر پیش کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ محض ان کے کتے کا نام ہے۔‘

’تاہم عدالت نے ان کی یہ دلیل قبول نہیں کی۔‘

میگنس کورمیک اس امر کو تسلیم کرتے ہیں ایس ڈبلیو اے کی جانب سے اس معاملے کو سلجھانا آسان نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سکاچ وہسکی کا برطانیہ کے اقتصادی حجم میں حصہ چار ارب پاؤنڈ ہے

وہ کہتے ہیں: ’بعض اوقات ہم کسی خاص کمپنی یا برانڈ کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہیں، اور وہ کمپنی کسی اور برانڈ کے نام سے ابھر آتی ہے اور ہمیں ساری کارروائی پھر سے کرنا پڑتی ہے۔‘

’کچھ مخصوص کمپنیاں ہیں جن کے خلاف ہم نے متعدد بار کارروائی کی ہے اور ہر بار ان پر پہلے سے زیادہ جرمانہ عائد کیا گیا ہے، ہم امید رکھتے ہیں وہ یہ محسوس کریں گے کہ اب منافع پہلے جیسا نہیں یا نہ ہونے کے برابر ہے۔‘

میگنس کورمیک کہتے ہیں: ’سکاچ وہسکی صرف سکاٹ لینڈ میں تیار کی جاسکتی ہے۔ اگر سکاچ وہسکی کی جغرافیائی وضاحت کا یہ مطلب لے لیا جائے کہ یہ کہیں بھی تیار کی جاسکتی ہے تو یہ سکاٹش اقتصادیات اور برطانوی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔‘

’لندن جن کے ساتھ ایسا ہوا تھا۔ ایک وقت تھا جب ’لندن جن‘ صرف لندن میں تیار کی جاتی تھی۔ اب یہ جن کی محض ایک قسم ہے جو دنیا بھر میں تیار کی جاتی ہے۔ لندن کے شراب سازوں نے یہ موقع گنوا دیا ہے۔‘

اسی بارے میں