مفتیوں کی الیکٹرانک جنگ

Image caption نئی نسل کے پاس یہ سب کچھ کرنے کے لیے زیادہ توانائی ہے میں بوڑھا ہو گیا ہوں : اردن کے مفتیِ اعظم

جہاں ایک طرف دنیا میں اسلام کے عقائد اورمذہب کو متعارف ہوئے 1400 سال مکمل ہو گئے ہیں وہاں دوسری جانب دولتِ اسلامیہ کا متعارف کروایا گیا خود ساختہ اسلام کا ایک نیا روپ ہے جو صرف انٹرنیٹ پر روزانہ ویڈیو اور پیغامات نشر کرنے سے ہی فروغ پا رہا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ روایتی مولوی اس ڈیجیٹل ثقافتی جنگ کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں؟

گو کہ زیادہ تر مسلمان سکالرز نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف ٹویٹ کی ہیں لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نوجوان مسلمان نے اُن کی ٹویٹس نظر انداز کر کے دولتِ اسلامیہ پر توجہ دی ہے۔

اردن میں ایک ’ای مفتی‘ یا الیکٹرانک مفتی نے اس آن لائن جنگ کا تنہا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سال کے آغاز میں دولتِ اسلامیہ نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں اردن کے ائیر فورس کے پائلٹ کو زندہ جلاتے ہوئے دکھایا گیا۔

ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد دولت اسلامیہ نے اپنے اس اقدام کی مذہبی توجیہات پیش کیں اور اس اقدام کی مخالفت کرنے والوں کو معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر تنگ کرنا شروع کر دیا۔

میں نے اردون کے مفتیِ اعظم عبدالکریم سے پوچھا کہ وہ اور اُن کا محکمہ دولتِ اسلامیہ کے آن لائن نقطۂ نظر کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

یاد رہے کہ کسی بھی شخص کو مفتی کے عہدے پر ریاست تعینات کرتی ہے اور اُس کا کام روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل کے حوالے سے فتویٰ دینا ہے۔

انٹرنیٹ پر دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کو دیکھتے ہوئے کیا مساجد کے خطبوں میں انتہا پسند رحجان کو روکنے کے لیے کچھ کیا جا رہا ہے؟

مفتیِ اعظم نے کہا کہ ’درحقیقت دولتِ اسلامیہ ان چیزوں میں بہت تجربہ رکھتی ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات جاری کرنا۔ میرا خیال نہیں ہے کہ ہمارا محکمہ اپنے طور پر اس حوالے سے کچھ کر سکے۔‘

Image caption الیکٹرانک شعبے میں نوجوان سکالرز ڈاکٹر جمیل ابوسارہ کی نگرانی میں کام کرتے ہیں

ایک اندازے کے مطابق دولت اسلامیہ کے ٹوئٹر کے تقریبا 46 ہزار اکاونٹس ہیں۔ کیا آپ کا اکاونٹ ہے؟

انھوں نے جواب دیا کہ ’نئی نسل کے پاس یہ سب کچھ کرنے کے لیے زیادہ توانائی ہے، اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔‘

لیکن بعد میں مفتیِ اعظم کی ٹیم نے مجھے حیران کر دیا۔

مفتیِ اعظم کے دفتر کی اوپر کی منزل پر الیکٹرانک ڈیپارٹمنٹ تھا۔پورے کے پورے شعبے میں نوجوان سکالرز کام کر رہے تھے اور اُن کے سربراہ ڈاکٹر جمیل ابوسارہ تھے۔

مفتیِ اعظم کی طرح ابوسارہ نے بھی مذہبی چوغہ اور لمبی ٹوپی پہن رکھی تھی لیکن وہ جوان تھے اور سمارٹ فون سے مستفید ہو رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم ذرائع ابلاغ کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے سامعین سے رابطے میں رہتے ہیں جیسے فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر ذرائع۔‘

’دنیا میں آج کل ذرائع ابلاغ کے یہی طریقے رائج ہیں لیکن کئی برسوں پہلے اگر کوئی فتویٰ دیتا تھا تو اُس کی دو ہزار کاپیاں چھپواتا اور لوگوں میں تقسیم کرتا تھا۔اب ہم ایک لاکھ افراد کو یہ معلومات دے سکتے ہیں۔ہمارے سامعین دنیا بھر میں ہیں۔ ہم نے ان فتوؤں کو انگریزی سمیت دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی کرنا شروع کیا ہے۔‘

اس ڈیجیٹل حکمت عملی کے تحت انھوں نے ایک ویب سائٹ بنائی ہے جہاں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فتوؤں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ مقبول ترین سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی کو بڑھانا چاہتے ہیں اور اُن کی ٹیم چوبیس گھنٹے اپنا آپ کو آن لائن رکھنا چاہتی ہے۔

ابو سارہ کہتے ہیں کہ وہ نوجوان افراد کے تعاون سے کوشش ضرور کر رہے ہیں لیکن دولتِ اسلامیہ کے مقابلہ اُن کی ’فالوئنگ‘ کافی کم ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے حامیوں کو جب اردن کے مفتی کی ان کاوشوں کا پتہ چلا تو انھوں نے ویب سائٹ پر حملہ کیا اور اُنھیں دھمکی آمیز پیغام بھیجا۔

ابو سارہ کہتے ہیں کہ ’جب انھوں نے پائلٹ کو مارا اور کہا کہ اُسے زندہ جلانا غیر اسلامی نہیں ہے۔ تو ہم نے انھیں واضح جواب دیا۔‘

اردن کے ای مفتی یا الیکٹرانک مفتی وہ پہلے نہیں ہیں کہ جنھوں نے اس پر آواز اٹھائی ہے۔

گذشتہ سال سعودی عرب نے بھی 40 ٹی وی چینلز کی مدد سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف مہم شروع کی تھی۔

مہم شروع ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد دولت اسلامیہ نے انتہائی ظالمانہ ویڈیو جاری کی۔

مغرب ممالک میں بھی اس حوالے سے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں۔ برطانیہ میں ’امام آن لائن‘ گروپ بنایا ہے جس پر تواتر سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف پیغامات پوسٹ کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں