یونان آئی ایم ایف کو 75 ارب یورو کی ادائیگی کے لیے پر اعتماد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونان میں آنے والے دو ہفتوں میں پیسے کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

یونان کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آج ختم ہونے والی ڈیڈ لائن تک 75 ارب یورو ادا کر دے گا۔ وزیر معیشت نے آئندہ دو ہفتوں میں نقد رقم کی دستیابی کے لیے ممکنہ بحران سے خبردار کیا ہے۔

وزیر معیشت یانس واروفاکس نے یہ انتباہ پیر کو یوروزون کے مالی امور کے وزرا کے اجلاس کے بعد دیا ہے جس میں یونان کے قرض سے نکلنے کی شرائط پر گفتگو کی گئی ہے۔

اجلاس میں 72 ارب یورو کے لازمی جز کی ادائیگي پر بات کی گئی۔ وزرا نے کہا کہ یونان نے اس سمت میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے تاہم اسے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب یونان کی حکومت قرض کی ادائیگی کے اپنے فرائض کی انجام دہی میں پرشانی کا شکار ہے۔

یونان کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو منگل کی ڈیڈ لائن تک 75 ارب یورو ادا کر دے گا۔

اور دارالحکومت ایتھنس میں سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس بابت احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

یانس نے متبہ کیا ہے کہ اگر قرض دینے والے بین الاقوامی اداروں سے مزید قرضے نہیں ملے تو آنے والے ہفتوں میں ملک میں پیسے کی کمی ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یانس نے کہا کہ ملک کو قرض کے مسائل پر مزید وقت درکار ہیں

یانس نے کہا کہ ’نقدی کا مسئلہ فوری طور پر توجہ طلب ہے۔ یہ معلومات عامہ ہے اورہمیں ادھر ادھر بھٹکنے کی ضرورت نہیں۔

’وقت کے لحاظ سے ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ آنے والے چند ہفتوں میں یہ مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ جون تک یونان کو قرض دینے والوں کے ساتھ اصلاحات کا معاہدہ طے کرنا ہے۔ یونان کی معاشی حالت اس قدر خستہ ہے کہ اسے عوامی اداروں سے امداد کی اپیل کرنی پڑی۔

یوروزون سخت اصلاحات پر زور دیتا ہے جن میں بیل آؤٹ کے بدلے پینشن میں کٹوتی جیسے اقدامات شامل ہے لیکن یونان میں کٹوتی مخالف سائریزا کی قیادت والی حکومت ان سخت اصلاحات کی مخالفت کررہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ یونان قرض ادا نہ کرے اور یوروزون سے علیحدہ ہو جائے

ایک بیان میں وزیر یانس نے کہا کہ ’انھوں نے ابھی تک ہونے والی پیش رفت کا استقبال کیا ہے‘ لیکن ’ہم لوگوں کا کہنا ہے کہ باقی مسائل کے درمیان کے خلا کو پر کرنے کے لیے مزید وقت اور کوششیں درکار ہیں۔‘

یوروگروپ کے سربراہ جرون دیشلبوم نے کہا کہ یونان کو مزید قرض اسی صورت میں مل سکتے ہیں جب وہ بیل آؤٹ کے متعلق مکمل معاہدہ کرے۔

انھوں نے کہا: ’ہمارے پاس وقت کی کمی ہے، اثاثے کی کمی ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہم وقت ختم ہونے یا نقد رقم ختم ہونے سے قبل معاہدہ تک پہنچ جائیں گے۔‘

پہلے اس بات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ یونان قرض ادا نہیں کرے گا اور یوروزون سے باہر نکل جائے گا۔

اسی بارے میں