یمن میں سعودی کارروائی کامیاب رہی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے طیاروں نے سب سے پہلے یمنی فضائیہ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا

یمن پر بمباری کی سعودی مہم جسے آپریشن ’ڈسائیسو سٹورم‘ (فیصلہ کن طوفان) کا نام دیا گیا تھا ایک ماہ تک 2415 فضائی حملوں اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے کم از کم ایک ہزار بم اور میزائل گرائے جانے کے بعد 22 اپریل کو ختم کر دی گئی۔

اس مہم کے خاتمے کے بعد عسکری کارروائی کا نیا مرحلہ آپریشن ’ریسٹورنگ ہوپ‘ (بحالیِ امید) کے نام سے شروع ہوا جس کا مقصد طاقت کے استعمال میں کمی اور مسئلے کے مجوزہ سیاسی حل کی جانب بڑھنا تھا۔

آپریشن کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب نے نہ صرف یقینی طور پر یہ دکھا دیا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کرنے کا اہل ہے بلکہ اس خیال کو بھی غلط ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی حدود سے باہر پیچیدہ کارروائیوں کا اہل نہیں۔

فضائی بمباری کے دوران سعودی فضائیہ نے زیادہ تر پانچ سو سے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے جن میں سے بیشتر کو جی پی ایس اور لیزر گائیڈنس ٹیکنالوجی کی مدد سے اہداف پر گرایا گیا۔

اس کارروائی کے دوران سعودی عرب کی شاہی فضائیہ کی عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کی شرح زیادہ تھی اور ابتدائی طور پر بمباری سے عام شہریوں کو پہنچنے والا نقصان کم رہا۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جن عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا وہ شہری آبادی سے فاصلے سے نسبتاً غیر آباد علاقوں میں واقع تھے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے طیاروں نے سب سے پہلے یمنی فضائیہ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے بعد بیلسٹک میزائلوں اور اسلحہ خانے ہدف بنے اور پھر حوثی باغیوں کے قافلے اور باغیوں کی پناگاہیں بمباری کی زد پر آئیں۔

تاہم جیسے جیسے یہ آپریشن آگے بڑھتا گیا ایسے چند ہی اہداف باقی بچے جن کی عسکری اہمیت تھی اور پھر عام شہریوں کی ہلاکتوں اور غلط اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آنے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جیسے جیسے یہ آپریشن آگے بڑھا عام شہریوں کی ہلاکتوں اور غلط اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آنے لگے

حوثی باغی اپنی سرگرمیاں پوشیدہ رکھنے میں کامیاب رہے جس کا نتیجہ صحیح اہداف کی نشاندہی میں غلطیوں اور نتیجتاً عام شہریوں کی ہلاکتوں کی صورت میں نکلا۔

ابتدائی آپریشن کے دوران سعودی فوج نے یمن کی فضائی اور بحری ناکہ بندی بھی کی جس کا بنیادی مقصد حوثی باغیوں تک ایرانی امداد پہنچنے سے روکنا تھا اور یہ ناکہ بندی کامیاب بھی رہی۔

اس تمام صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یمن میں سعودی کارروائی کو کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے؟

اگر کامیابی کی تعریف سعودی سرزمین کو درپیش سٹریٹیجک خطرے کو دور کرنا سمجھی جائے تو یقیناً سعودی عرب اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

اس آپریشن میں یمن کی جارحانہ صلاحیت تباہ کر دی گئی اور اب سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حوثیوں کے لیے لڑنے والی مسلح افواج سعودی ریاست کے لیے بڑا خطرہ نہیں ہیں۔

تاہم اگر آپریشن ’ڈسائیسو سٹورم‘ کو مسئلے کے سیاسی حل کے حصول کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال کہیں زیادہ مبہم ہے۔

اگرچہ یمن میں فضائی حملے جاری ہیں لیکن اب توجہ آپریشن ’ریسٹورنگ ہوپ‘ کے تحت عسکری کارروائیوں پر نہیں بلکہ یہ کارروائیاں مسئلے کے سیاسی حل کو تحفظ دینے کے لیے حاشیہ آرائی جیسی ہیں۔

سعودی کارروائی کے باوجود حوثی ملک کے جنوبی علاقوں سے پسپا نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی وہ ایسی صورتحال کا شکار ہو سکے ہیں کہ جہاں انھیں سعودی عرب یا یمن کے سعودی نواز صدر کے ساتھ ان کی شرائط کے تحت مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حوثی باغی اپنی سرگرمیاں پوشیدہ رکھنے میں کامیاب رہے

تاہم اس کے باوجود سعودی حکومت یمن میں کارروائی کو ایک کامیابی کہنے پر مُصِر ہے۔

سعودی وزیرِ دفاع اور ملک کے نومنتخب نائب وزیرِ اعظم محمد بن سلمان نے اس جنگ کی ملکیت لی ہے اور چاہے عسکری نقطۂ نظر سے سعودی عرب کو حاصل ہونے والے فوائد مشکوک ہوں سیاسی طور پر اسے کامیابی ہی قرار دیا جائے گا۔

یہ بھی ممکن نہیں کہ سعودی عرب حقیقی عسکری کامیابی کے لیے آپریشن ’ڈسائیسو سٹورم‘ کی جانب پلٹ سکے یا اسی سطح کا آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے۔

کیونکہ جہاں اس مہم کے دوران استعمال ہونے والا اسلحہ اور گولہ بارود دوبارہ حاصل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے وہیں یمن میں نشانہ بنائے جانے کے قابل عسکری اہداف نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔

اب زیادہ امکان یہی ہے کہ سعودی فضائیہ ایک ایسی کم شدت کی مہم چلائے گی جس کا مقصد زمینی فوج کو مدد فراہم کرنا ہوگا۔

تاہم یہ ممکن نہیں کہ موجودہ حالات میں سعودی عرب مکمل فوجی فتح حاصل کر سکے اور نہ ہی سعودی عرب کی شاہی فضائیہ دوبارہ مہلک وار کر سکے گی۔

اس لیے اگر یمن میں زمینی کارروائی کے ذریعے حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے میں کامیابی نہ ہوئی تو یہ تنازع مزید کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔

اسی بارے میں