’فیس بک کے ذریعے انسانی سمگلنگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کسی ٹریول ایجنسی کا اشتہار نہیں ہے۔ یہ فیس بک پر انسانی سمگلر عبدالعزیز کی جانب سے کی جانی والی پوسٹ ہے

بحیرۂ روم کے ذریعے لوگوں کو یورپ سمگل کرنے والے افراد اپنی تشہیر فیس بک پر کر رہے ہیں اور غیر قانونی تارکین وطن کو بحفاظت یورپ پہنچانے کے وعدے کر رہے ہیں۔

فیس بک پر ان کے پیج سمگلنگ نیٹ ورک کے بارے میں بتاتے ہیں جو تین برِاعظموں پر پھیلا ہوا ہے اور لاکھوں ڈالرز کا کاروبار ہے اور یورپی یونین میں متبادل پناہ کی سروس مہیا کر رہے ہیں۔

سیزن کے شروع میں یورپ کی جانب سفر کے لیے کئی پیشکش کی گئی ہیں۔ ان پیشکش کے مطابق ’ترکی لیبیا اٹلی 3800 ڈالرز، الجزائر لیبیا اٹلی 2500 ڈالرز۔ سوڈان لیبیا اٹلی 2500 ڈالرز ۔۔۔ لکڑی کی کشتیاں ہیں ۔۔۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو مجھ سے وائبر یا واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔‘

یہ کسی ٹریول ایجنسی کا اشتہار نہیں ہے۔ یہ فیس بک پر انسانی سمگلر عبدالعزیز کی جانب سے کی جانی والی پوسٹ ہے۔

عبدالعزیز نے یہ پوسٹ لیبیا کی بندرگاہ زوارہ سے 21 اپریل کو تھی۔ عبدالعزیز ان سینکڑوں انسانی سمگلروں میں سے ایک ہیں جو لوگوں کو یورپ لے جانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان اشتہارات میں پیکج ڈیلز کا بھی ذکر ہے جیسے کہ ’بچے مفت سفر کریں گے‘۔ یہ آفر بہت پسند کی جاتی ہے

سوشل میڈیا پر جو تشہیر کی جا رہی ہے اس میں جعلی دستاویزات سے لے کر سمندر، ہوائی یا زمینی راستوں سے محفوظ منتقلی شامل ہے۔ کئی اشتہاروں میں شاندار کروز لائنر یا نیا پاسپورٹ دکھایا جاتا ہے۔ ان اشتہارات میں پیکج ڈیلز کا بھی ذکر ہے جیسے کہ ’بچے مفت سفر کریں گے‘۔ یہ آفر بہت پسند کی جاتی ہے۔

لیکن ان شاندار آفرز کے پیچھے سنگدل انسانی سمگلروں کا گروہ ہے جو مشکل میں پڑے لوگوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

یہ گروہ نہ صرف بحیرۂ روم اور مشرق وسطیٰ میں ہے بلکہ افریقی صحرائے اعظم تک پھیلا ہوا ہے۔

صرف عبدالعزیز کا دعویٰ ہے کہ ان کے تقریباً ہر عرب ملک میں ایجنٹ موجود ہیں اور ’اگر لوگ لیبیا نہیں آ سکتے تو میرے ایجنٹ ان کو قانونی یا غیر قانونی طور پر لیبیا لا سکتے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افریقہ سے غیر قانونی تارکین وطن لیبیا کی زوارہ بندرگاہ سے 30 سال سے یہ سفر اختیار کر رہے ہیں

عبدالعزیز کو استنبول میں جعلی پاسپورٹ فراہم کرنے والا گروہ اور ایریٹریا میں ٹرک ڈرائیوررز کا نیٹ ورک منظرعام پر نہیں آتا ہے۔

پچھلے سال 220 ہزار افراد نے بحیرۂ روم عبور کیا جن میں سے زیادہ تر نے سفر کا آغاز لیبیا سے کیا جن کو بحیرۂ روم سے اطالوی کوسٹ گارڈ یا بحریہ نے ریسکو کیا۔

سنہ 2015 میں اب تک 35 ہزار غیر قانونی تارکین وطن اٹلی پہنچے ہیں جبکہ 1800 افراد اس کوشش میں ڈوب گئے ہیں۔

نئی بات نہیں ہے

اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ افریقہ سے غیر قانونی تارکین وطن لیبیا کی زوارہ بندرگاہ سے 30 سال سے یہ سفر اختیار کر رہے ہیں۔ لیکن عربی بولنے والوں کے لیے فیس بک صفحات میں اضافے سے لگتا ہے کہ 2011 کے بعد سے شام اور دیگر عرب ممالک کے لوگوں میں یورپ پہنچنے کی خواہش میں اضافہ ہوا ہے۔

عبدالعزیز نے بی بی سی سے سکائپ کے ذریعے بات کی اور کہا کہ روزانہ 10 سے 20 افراد فیس بک کے ذریعے ان سے رابطے کرتے ہیں۔ ’2012 تک ہم سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے تھے۔ لیکن اب کاروبار کا 30 سے 40 فیصد کاروبار سوشل میڈیا کے ذریعے آتا ہے۔‘

لیبیا میں جاری بدامنی سے بھی انسانی سمگلر زیادہ بے خوف ہوئے ہیں اور وہ بغیر خوف و خطر اپے کام کی تشہیر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمپاؤلوکے مطابق اس ’کمپنی‘ نے پچھلے سال 215 ملین سے 430 ملین ڈالر کے درمیان کا کاروبار کیا

عبدالعزیز سے جب پوچھا گیا کہ ان کی فیس بک حکام کو متوجہ کر سکتی ہے تو انھوں نے ہنستے ہوئے کہا ’کون سے حکام؟ کوئی حکام نہیں ہیں۔ کوئی حکومت نہیں ہے۔ کچھ نہیں ہے۔‘

اطالوی صحافی جمپاؤلو موزمچی نے شمالی افریقہ کے انسانی سمگلروں کے گروہوں پر کتاب لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال ’دنیا کی سب سے بڑی غیر قانونی ٹریول کمپنی کی مارکیٹنگ ہے۔‘

جمپاؤلوکے مطابق اس ’کمپنی‘ نے پچھلے سال 21 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے 43 کروڑ ڈالر کے درمیان کا کاروبار کیا۔

ایک پاکستانی انسانی سمگلر نے جمپاؤلو سے کہا ’میں یورپ پہنچے کے خواب کو بیچ رہا ہوں۔‘

ایہم الفارسی شامی مترجم ہیں اور شامی صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہروں میں شامل رہے ہیں۔ وہ اکتوبر 2011 میں اپنی جان بچانے کے لیے ملک سے فرار ہوئے۔ شام سے نکلنے سے پہلے انھوں نے دمشق میں فرانس اور آسٹریا کے ویزوں کے حصول کے لیے کوششیں کیں لیکن ان کو ویزہ نہیں ملا۔

اس کے بعد وہ ترکی پہنچے جہاں انھوں نے جرمنی، آسٹریلیا اور بوسنیا کے ویزے کی کوشش کی۔ ’ان سفارت کاروں نے اتنا بھی نہیں کہا کہ ہمارے پاس آپ کے لیے کوئی پروگرام نہیں ہے اور اس لیے ہم ویزہ نہیں دے سکتے ۔۔۔انھوں نے صرف کہا کہ ہمیں ای میل کریں اور جب میں نے ای میل بھیجی تو انھوں نے کچھ نہیں کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

الفارسی یونان پہنچے اور وہاں انھوں نے فیس بک پر تشہیر کرنے والے شامی سمگلر حافظ سے ملاقات کی۔

’اس نے مجھے کہا کہ میں تمھیں جہاں چاہو لے کر جا سکتا ہوں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بس تمہاری جیب میں رقم ہونی چاہیے۔‘

تاہم حافظ الفارسی کو یونان سے باہر نکالنے میں ناکام رہا۔ الفارسی نے دوسرے سمگلر سے جعلی پاسپورٹ لیا اور 11ویں کوشش میں وہ پیرس کی فلائٹ پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔ الفارسی کو اب نیدرلینڈر میں پناہ مل گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یورپی یونین کی جانب سے نئی پالیسی جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو ممبر ریاستوں میں پھیلایا جائے اور انسانی سمگلروں کے گروہوں کو توڑا جائے شاید کارآمد ثابت ہو۔ لیکن اطالوی صحافی جمپاؤلو موزمچی کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے کوششیں درکار ہیں۔

’غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے ہمیں بین الاقوامی مسائل کو حل کرنا ہو گا۔۔۔ہمیں لیبیا، ایریٹریا، صومالیہ اور شام پر توجہ دینی ہو گی۔ یہ شاید بہت سادہ لوح بات لگتی ہے لیکن صرف یہی راستہ ہے ۔۔۔ اپنے دروازے بند کر دینا اس کا حل نہیں ہے۔

یورپی یونین کی پولیس یوروپول نے خفیہ پروگرام ’جے او ٹی مارے‘ شروع کیا ہے جو انسانی سمگلروں کے گروہوں کو توڑنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

لیکن زوارہ میں عبدالعزیز ’جے او ٹی مارے‘ سے خوفزدہ نہیں ہیں۔’یہ سب کچھ کاغذات پر ہے۔ میں خوفزدہ نہیں ہوں کیونکہ یہ بے معنی ہے۔ وہ میرا پیچھا کیسے کریں گے؟ کیا وہ لیبیا آئیں گے؟ اگر وہ آتے ہیں تو اس کو حملہ تصور کیا جائے گا۔ کیا وہ مجھے لیبیا سے باہر گرفتار کریں گے؟ میں لیبیا سے باہر جاتا ہی نہیں اور اگر میں جاؤں گا بھی تو ان کو پتہ نہیں چلے گا۔‘

اسی بارے میں