دولتِ اسلامیہ کےنائب سربراہ ’فضائی حملے میں مارے گئے‘

Image caption حالیہ ہفتوں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق عبدالرحمان مصطفیٰ دولتِ اسلامیہ کے قائم مقام سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے

عراق کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے نائب سربراہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

عراقی وزارت دفاع کے مطابق امریکی قیادت میں قائم اتحاد کے جنگی طیاروں نے یہ کارروائی کی۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل تحسین ابراہیم کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے نائب سربراہ عبدالرحمان مصطفیٰ محمد شمالی علاقے تل عفر‎ کی ایک مسجد میں موجود تھے جب انھیں نشانہ بنا گیا۔

ویڈیو: دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟

عبدالرحمان مصطفیٰ ابو علاء الفعری کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملے کے نتیجے میں مسجد میں موجود دیگر درجنوں شدت پسند بھی مارے گئے۔

حالیہ ہفتوں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق عبدالرحمان مصطفیٰ دولتِ اسلامیہ کے قائم مقام سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

گذشتہ ہفتے ہت امریکی وزارت خارجہ نے عبدالرحمٰن مصطفیٰ کے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے 70 لا کھ کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

مریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’دولت اسلامیہ اجتماعی پھانسیوں، قتل عام، ظالمانہ کارروائیوں، غارت گری، ریپ اور بچوں کے قتل کے لیے ذمہ دار ہے۔‘

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس گروپ کے خلاف امریکی قیادت میں قائم اتحاد فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔

اسی بارے میں