شمالی کوریا کے وزیرِ دفاع ہیؤن یونگ چول کو ’سزائے موت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہیؤن یونگ-چول کو 2012 میں شمالی کوریا کی بری فوج کا سربراہ بنایا گیا تھا

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کے حکم پر ملک کے وزیرِ دفاع ہیؤن یونگ-چول کو سزائے موت دی گئی ہے۔

جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق جنوبی کوریا کے خفیہ ادارے کے حکام نے اراکینِ پارلیمان کو بتایا ہے کہ مطابق ہیؤن چول کو 30 اپریل کو طیارہ شکن توپ سے فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

یہ واضح نہیں کہ انھیں کن الزامات کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا تاہم غالب خیال یہی ہے کہ انھیں کم جونگ ان سے عدم وفاداری کی سزا دی گئی۔

یونہاپ کے مطابق جنوبی کوریا کے قومی خفیہ ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہیؤن یونگ-چول بظاہر ملک کی فوجی تقریبات میں متعدد بار سوتے پائے گئے اور کئی بار انھوں نے کم جونگ ان کے خیالات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے انھیں جواب دیا تھا۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا سے ملنے والی اطلاعات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق انتہائی مشکل امر ہے۔

ہیؤن یونگ-چول کو 2012 میں شمالی کوریا کی بری فوج کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق وہ سنہ 2010 سے فوج میں جنرل کے عہدے پر فائز تھے تاہم ان کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔

انھیں دسمبر 2011 میں شمالی کوریا کے آنجہانی رہنما کم جونگ ال کی تدفین کمیٹی کا رکن بھی بنایا گیا تھا جو کہ ان کے شمالی کوریا کی حکومت میں اثرورسوخ کی دلیل سمجھی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کے موجودہ حکمران کم جونگ ان نے 2011 میں برسرِاقتدار آنے کے بعد سے اپنے قریبی رشتہ دار جنگ سونگ تھائیک سمیت کئی حکومتی عہدیداران کو مختلف الزامات کے تحت سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں