’فوجی خواتین کا کنوار پن کا ٹیسٹ ختم کیا جائے ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’خاتون کے کنوار پن کی جانچ کا طریقۂ سائنسی طور پر بے بنیاد ہے‘

انڈونیشیا میں خواتین کے فوج میں بھرتی ہونے کے لیے کنوار پن کے ٹیسٹ کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کنوار پن کے ٹیسٹ کو ظالمانہ، غیر انسانی اورگھٹیا قرار دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق خواتین فوجی اہلکاروں کے انٹرویوز کرنے سے معلوم ہوا کہ کنوار پن کے ٹیسٹ کو’دو انگلیوں کا ٹیسٹ‘ کہا جاتا ہے اور تصدیق کی جاتی ہے کہ پردہ بکارت محفوظ ہے یا نہیں۔

یہ ٹیسٹ ان خواتین کے لیے ضروری ہے جو فوج میں شامل ہونا چاہتی ہیں یا فوجی افسروں سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ نام نہاد کنوار پن کے ٹیسٹ کو فوری طور پر ختم کیا جائے جو حقوق انسانی کے بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر انسانی، ظالمانہ اور ذلت آمیز سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔

تنظیم نے ٹیسٹ کو جنس کی بنیاد پر تشدد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون کے کنوار پن کی جانچ کا طریقہ سائنسی طور پر بے بنیاد ہے۔

تنظیم نے بھرتی ہونے والی خواتین اور فوجی افسروں کی 11 منگیتروں کے انٹرویو کیے جن کے ملک کے جزیرے جاوا میں واقع مختلف فوجی ہسپتالوں میں ٹیسٹ کیے گئے۔ ٹیسٹ کرانے والی خواتین کے مطابق یہ طریقۂ کار تکلیف دے، شرمناک تھا اور اس سے صدمہ پہنچتا۔

2013 میں ٹیسٹ کرانے والی ایک خاتون کے مطابق ٹیسٹ کی وجہ سے وہ پریشان تھی اور اس سے تذلیل کا احساس ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت صدمہ پہنچا جب معلوم ہوا کہ ٹیسٹ کرنے والا مرد ہے۔ یہ ہر خاتون کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔‘

انڈونیشیا میں یہ ٹیسٹ کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ 1984 میں اس ٹیسٹ سے گزرنے والی ریٹائرڈ خاتون افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملازمت کے چار سال بعد ان کی شادی ہو گئی لیکن میں نے کئی ماہ تک اپنے شوہر کے ساتھ جسمانی تعلقات نہیں کیے کیونکہ کنوار پن کے ٹیسٹ کی وجہ سے مجھے شدید صدمہ پہنچا تھا۔

فوج کے ترجمان فواد بسایا نے ٹیسٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے غیر اخلاقی خواتین کی شمولیت کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔

انھوں نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک شخص کا غیر اخلاقی ہے تو وہ فوج میں شمولیت اختیار نہیں کر سکتی کیونکہ اگر وہ فوج میں شامل ہوتی ہے تو وہ فوج کو نقصان پہنچائے گی، فوج میں شامل افراد کو ایک بڑی ذمہ داری نبھانی ہوتی ہے کیونکہ یہ ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سلامتی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آئندہ ہفتے ملک کے جزیرے بالی میں بین الاقوامی کمیٹی برائے ملٹری میڈیسن کا اجلاس ہو رہا ہے۔

یہ کمیٹی دنیا بھر میں مسلح افواج میں طبی سہولیات کو بہتر کرنے کے حوالے سے کام کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2013 میں ٹیسٹ کرانے والی ایک خاتون کے مطابق ٹیسٹ کی وجہ سے وہ پریشان تھی اور اس سے تذلیل کا احساس ہوتا ہے۔

اسی بارے میں