دولتِ اسلامیہ کا رمادی کی اہم سرکاری عمارت پر قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اطلاعات کے مطابق کم از کم 50 سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا لیا گیا ہے

عراق میں حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتَِ اسلامیہ نے ملک کے سب سے بڑے صوبے انبار کے دارالحکومت رمادی کی اہم سرکاری عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں اہم سرکاری عمارت کے احاطے کے باہر چھ خودکش کار بم دھماکے کرنے کے بعد اندر داخل ہوئے۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ ویڈیو رپورٹ

عمارت کے احاطے میں شہر کا مرکزی پولیس سٹیشن اور گورنر کا دفتر بھی قائم ہے۔

اطلاعات کے مطابق کم از کم 50 سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا لیا گیا ہے۔

رمادی عراق کے سب سے بڑے صوبے انبار کا دارالحکومت ہے اور اس شہر پر قبضے کے لیے دولت اسلامیہ اور عراقی فوجوں کے درمیان شدید لڑائی جاری رہی تھی۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار احمد مہر کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے رمادی کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا اور صوبہ انبار کے نصف علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ’ دولتِ اسلامیہ نے رمادی کے وسط میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور صوبے میں پولیس کے ہیڈ کوارٹر پر اپنی تنظیم کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔‘

دولتِ اسلامیہ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں سکاری احاطے پر قبضہ کرنے کی تصدیق کی گئی ہے اور اس دوران ہونے والی لڑائی میں حکومت کے حامی درجنوں جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ اس سے قبل عراق میں سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی شیعہ ملیشیا نے سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرایا تھا جس پر دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ سال جون میں اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس کامیابی کے بعد عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے صوبہ انبار کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری اگلی جنگ انبار کی سرزمین پر ہو گی اور اسے مکمل طور پر آزاد کرایا جائے گا۔‘

صوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام سے اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں۔

اس صوبے کے اکثر شہروں اور دیہاتوں پر دولتِ اسلامیہ یا دیگر شدت پسندوں گروہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

عراقی حکومت کے لیے ایک وسیع صوبے کو دولتِ اسلامیہ سے نکالنا ایک بڑا چلینج ہو گا تاہم حکومت تکریت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی کے تسلسل کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں