ڈاکٹروں کے سونے پر اتنا شور کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption میکسیو میں ہاؤس جاب کرنے والی ایک نوجوان ڈاکٹر تھک کر کرسی پر اونگھ رہی تھیں

کیا میڈیکل سٹوڈنٹس کو بہت کام کرنا پڑتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو بہت سے ملکوں میں پوچھا جا رہا ہے، لیکن لاطینی امریکہ میں اس سوال پر آج کل دھواں دھار بحث ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ایک تصویر ہے جس میں میڈیکل کے آخری سال کی ایک طالبہ اپنی کرسی پر سوتے ہوئی دکھائی گئی ہے۔

بہت دیر ہو چکی ہے اور کئی گھنٹے تک تھکا دینے والی نوکری کرنے کے بعد آپ نے دیکھا کہ کوئی ارد گرد نہیں ہے اور چند منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے دراز ہو گئے۔

میکسیکو میں میڈیکل کی ہاؤس جاب کرنے والی ڈاکٹر نے بھی اس سے زیادہ کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ ہاں ایک غلطی جو اس سے ہوئی وہ یہ تھی کہ اسے معلوم نہیں تھا ایک مریض اسے اس حالت میں دیکھ لے گی اور اس کی تصویر بنا کر انٹرنیٹ پر چڑھا دے گی۔

تصویر کا انٹرنیٹ پر آنا تھا کہ ایک زبردست بحث شروع ہو گئی۔

تصویر کے ساتھ لکھا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک تھکا دینے والی ملازمت ہے، لیکن ڈاکٹروں کا کام ہے کہ وہ سونے کی بجائے ان درجنوں مریضوں کا خیال رکھیں جنھیں ان کی توجہ درکار ہے۔`

میکسیکو کی طرح لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک میں جونیئر ڈاکٹروں کے لیے 36 گھنٹے کی شفٹ پر کام کرنا معمول کی بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ٹوئٹر پر ایک نوجوان ڈاکٹر نے اپنی سوتے ہوئے کی تصویر لگائی

لیکن انٹرنیٹ پر تصویر لگانے والی بلاگر نے یہ بھی لکھا کہ جب میڈیکل کے طلبا ڈاکٹر بن جاتے ہیں تو وہ اچھے معیار زندگی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اورانھیں اچھی تنخواہیں بھی ملتی ہیں۔ان کا معیار زندگی ان بے شمار مریضوں سے بہتر ہوتا ہے جن کا وہ علاج کرتے ہیں۔‘

بلاگر کی اس تنقید کے بعد لاطینی امریکہ کے ڈاکٹر سوتے نہیں رہے اور جب بات میکسیکو کے ایک ڈاکٹر یوان کارلوس تک پہنچی تو انھوں نے معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک ہیش ٹیگ بنا ڈالا جس کا عنوان ہے: ’میں بھی کام پر سو چکا ہوں۔‘

اپنی ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’اپنی معمول کی شفٹ پر میں خود کبھی ایک، کبھی دو، کبھی تین اور کبھی چار چار آپریشن کرنے کے بعد ہسپتال میں ہی سو چکا ہوں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر کارلوس کا کہنا تھا کہ ان کا ہیش ٹیگ متعارف کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکٹروں اور مریضوں کے حقوق میں فرق کو واضح کیا جا سکے۔‘

ان کے بقول ’میکسیکو میں کسی ڈاکٹر کو اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ کسی مریض کی رضامندی کے بغیر اس کی تصویر اتارے، لیکن مریض ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر اتار سکتا ہے، چاہے اس کا مقصد ڈاکٹر کو بدنام کرنا ہی کیوں نہ ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پیراگوئے کے ایک نوجوان ڈاکٹر کی تصویر بھی ٹوئٹر پر موجود ہے جس میں وہ سو رہے ہیں۔

اب تک ٹوئٹر پر 17 ہزار سے زائد اور فیس بُک پر اس سے بھی زیادہ لوگ میڈیکل کے طلبا کی حمایت کر چکے ہیں اور اس بحث میں لاطینی امریکہ بھر سے بے شمار ڈاکٹر اور مریض اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔کئی ڈاکٹروں نے ٹوئٹر پر ایسی تصاویر بھی شائع کی ہیں جن میں وہ خود یا ان کے ساتھی ڈاکٹر ہسپتال کی کرسیوں پر سوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم ہیش ٹیگ میں اکثر ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹوڈنٹس نے اپنے اوقاتِ کار کی طوالت کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کی کیونکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پیشے میں لمبی شفٹیں معمول کی بات ہے کیونکہ ان شفٹوں میں انھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے جو آئندہ زندگی میں بہت کام آتا ہے۔ یاد رہے کی یورپی ممالک میں اب یہ روایت ختم ہوتی جا رہی ہے اور نوجوان ڈاکٹروں سے بھی معمول کے اوقات سے زیادہ کام نہیں لیا جاتا۔

جہاں تک میکسیکو کے ہسپتال میں سونے والی نوجوان ڈاکٹر کا تعلق ہے تو ہسپتال کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ تصویر کی اشاعت کے بعد ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور ابھی تک ہسپتال کے ساتھ منسلک ہیں۔

اسی بارے میں