عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو دولتِ اسلامیہ نے رمادی میں ایک سرکاری احاطے پر قبضہ کر لیا تھا

عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی میں سکیورٹی فورسز کو پیچھے دھکیل کر شہر کے زیادہ تر حصے پر اپنا قبضہ مستحکم کر لیا ہے جبکہ شام کے تاریخی شہر پالمیرا میں داخل ہونے میں بھی کامیاب ہو گئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ ویڈیو رپورٹ

’داعش آپ کے بھائی نے بنائی تھی‘

’ریگستان کے وینس‘ کو شدت پسندوں سے خطرہ

امریکی سپیشل فورسز کی شام میں کارروائی

شام کے قدیم شہر پالمیرا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ سرکاری فورسز ان کا تعاقب کر رہی ہیں۔

اس وقت شدت پسند شہر کے شمالی علاقوں میں پہنچ گیے ہیں۔ اگر شہر پر شدت پسندوں کا قبضہ ہو جاتا ہے تو پالمیرا کے عالمی ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچے کا واضح امکان ہے کیونکہ دولتِ اسلامیہ اس سے پہلے عراق اور شام میں کئی تاریخی مقامات کو ملیا میٹ کر چکی ہے۔

Image caption ریگستان کا وینس کہلانے والے پالیمرا شہر کو اس وقت دولتِ اسلامیہ سے شدید خطرہ لاحق ہے

دوسری جانب رمادی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اگرچہ دولتِ اسلامیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک سرکاری احاطے سے پسپا ہو گئی ہے لیکن اس وقت شہر کے 60 فیصد حصے پر اس کا قبضہ ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار احمد مہر کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے شہری اضلاع کے اطراف میں فوجی کی بھیجی جانے والے تین اضافی دستوں کو شکست دینے کے بعد اب اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں۔

اگر رمادی دولتِ اسلامیہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے تو اس صورت میں دارالحکومت سے یہ تنظیم صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گی۔

دفاعی لحاظ سے اہم صوبہ انبار کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان کئی ماہ سے لڑائی جاری ہے۔

اس سے پہلے رمادی میں سرکاری فورسز کی طاقت میں اضافے کے لیے فوج کے تین اضافی دستے بھیجے گئے تھے لیکن دولتِ اسلامیہ انھیں بھی پسپا کر دیا۔

عراقی فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل سعد مان ابراہیم نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت میں اتحاد فضائی حملوں سے زمینی فوج کی مدد کر رہے ہیں اور جمعے سے دولتِ اسلامیہ پر کئی مہلک حملے کیے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رمادی میں فوج کے تین اضافے دستے بھیجے گئے لیکن کوئی کامیاب نہیں مل سکی

اعلیٰ حکام کی جانب سے میڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دیے جانے والے بیانات میں تسلیم کیا ہے کہ رمادی میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔

نامہ نگار کے مطابق اس صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت اس وقت کتنی پریشان ہے اور زمینی صورتحال کتنی سنگین ہو چکی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو ہی عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے رمادی پر جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رمادی کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں میں جانے نہیں دیا جائے گا۔

ادھر امریکہ نے عراقی افواج کو بھاری اسلحے اور مزید جنگی سازوسامان دینے کا وعدہ کیا ہے۔

امریکی نائب صدر جو بائڈن نے جمعے کو عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی سے گفتگو کی اور انھیں بھاری اسلحے دینے کا وعدہ کیا ہے جن میں شانے پر رکھ کر چلایا جانے والا راکٹ لانچر اور مزید گولے بارود کے علاوہ عراقی فوجیوں کے لیے سپلائیز شامل ہیں۔

دولت اسلامیہ نے رات میں اس کمپاؤنڈ میں خودکش کار بموں سے حملہ کیا جس میں کم از کم 10 پولیس اہل کار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔

رمادی عراق کے سب سے بڑے صوبے انبار کا دارالحکومت ہے اور اس شہر پر قبضے کے لیے دولت اسلامیہ اور عراقی فوجوں کے درمیان کئی ماہ سے شدید لڑائی جاری رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنگ کی وجہ سے شہریوں کو بڑے پیمانے پر وہاں سے کوچ کرتے دیکھا جا رہا ہے

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ عراق کی سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی شیعہ ملیشیا نے سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرایا تھا جس پر دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ سال جون میں قبضہ کر لیا تھا۔

اس کامیابی کے بعد عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے صوبہ انبار کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’ہماری اگلی جنگ انبار کی سرزمین پر ہو گی اور اسے مکمل طور پر آزاد کرایا جائے گا۔‘

صوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام سے اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں۔

اس صوبے کے اکثر شہروں اور دیہاتوں پر دولتِ اسلامیہ یا دیگر شدت پسندوں گروہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

عراقی حکومت کے لیے ایک وسیع صوبے کو دولتِ اسلامیہ سے نکالنا ایک بڑا چلینج ہوگا تاہم حکومت تکریت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی کے تسلسل کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں