’داعش آپ کے بھائی نے بنائی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امکانات خاصے زیادہ ہیں کہ ریپبلکن پارٹی 2016 کے صدارت انتخابات میں جیب بش کو اپنا امیدوار بنا سکتی ہے۔

امریکہ میں کالج کی اس طالبہ کی خبر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں شہ سرخیوں میں ہے جس نے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جیب بُش کو داعش کے حوالے سے آڑھے ہاتھوں لیا۔

یونیورسٹی آف نویڈا کی انیس سالہ طالبہ ایوی زیڈرک کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ عراق میں امریکی مداخلت کا شاخسانہ ہے اور صدر اوباما کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسے ’کوئی اپنی گاڑی کا ایکسیڈنٹ کر دے اور خود ذمہ داری لینے کی بجائے مسافروں کو برا بھلا کہنا شروع کر دے۔

ایوی زیڈرک نے جیب بش کو کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ آپ کے بھائی صاحب نے بنائی تھی۔‘

طالبہ اور سابق صدر جارج بش کے چھوٹے بھائی جیب بُش کے درمیان یہ تکرار ریاست نویڈا کے شہر رینو کے ٹاؤں ہال میں ہوئی جہاں وہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی مہم پر آئے تھے۔

صحافیوں میں گھرے ہوئے جیب بُش سے ایوی زیڈرک نے پوچھا کہ وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں داعش اس لیے بنی کہ صدر اوباما نے وہاں سے امریکی فوجوں کو واپس بلانا شروع کر دیا؟

’آپ کہتے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ اس لیے بنی کہ ہم وہاں سے فوجیں واپس بلا رہے ہیں۔آپ اس کی ذمہ داری صدر جارج بش پر ڈالنے کی بجائے صدر اوباما پر ڈال رہے ہیں۔ وہاں امریکی فوج بھیجنے والے صدر بش تھے نہ کہ صدر اوباما۔ دولتِ اسلامیہ پیدا کرنے کی ذمہ داری عراق کی اتحادی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے جس نے عراق کی پوری حکومت کو تلپٹ کر کے اسے برطرف کر دیا۔‘

’دولتِ اسلامیہ اس وقت بنی جب عراقی فوج کے 30 ہزار ملازمین کو نکال باہر کر دیا گیا۔ان کے پاس کوئی ملازمت نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود انہیں فوج کے اسلحے اور ہتھیاروں تک رسائی حاصل رہی۔ دولتِ اسلامیہ آپ کے بھائی نے بنائی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جارج ایچ ڈبلیو بُش، جارج ڈبلیو بُش اور جیب بُش

اس پر جیب بُش نے ایوی کے بازو کو تھپتھپاتے ہوئے کہا ’کیا یہ آپ کا سوال ہے یا؟

طالبہ ایوی زیڈرک نےجواباً کہا: ’آپ زیادہ غرور نہ کریں بلکہ میرے سوال کا جواب دیں۔‘

’غرور؟‘

’جی ہاں۔ ہم نے اپنے جوانوں کو امریکہ کی برتری کے خواب دکھا کر وہاں بھیجا تھا۔ اور اب بھی آپ امریکی بڑائی کا ڈھنڈورا پیٹ کر امریکہ کو کیوں مزید جنگوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔‘

اس پر جیب بش کا جواب تھا کہ ’میں آپ کا احترام کرتا ہوں لیکن آپ سے اتفاق نہیں کرتا۔ہمارا عراق کے ساتھ ایک معاہدہ موجود تھا۔ اگر صدر اوباما چاہتے تو وہ وہاں دس ہزار فوجی چھوڑ سکتے تھے جو عراق میں استحکام لا سکتے تھے اور اس دوران عراقی فوجی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے۔ لیکن صدر اوباما نے ایسا نہیں کیا اور اس کے نتیجے میں جو خلاء پیدا ہوا وہ فوراً (دولتِ اسلامیہ) نے پُر کر دیا۔‘

’آپ جس طرح چاہیں تاریخ کو دوبارہ لکھ لیں۔لیکن یہ بات بڑی سادہ ہے کہ آج ہم ہمیں (مشرق وسطیٰ) میں عدم استحکام کا سامنا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے وہاں سے اپنی فوجیں واپس بلا لی ہیں۔

ایوی زیڈرک سیاسیات کی طالبہ ہیں اور وہ اپنی یونیورسٹی میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی طلبہ جماعت ’ینگ ڈیموکریٹس‘ سے منسلک ہیں۔ ایوی اس سے پہلے ہائی سکول کی سطح پر امریکہ کی بہترین مقرر رہ چکی ہیں اور کالج میں بھی مختلف مقابلوں اور تنظیموں میں بڑہ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔

اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جیب بش کے ساتھ تکرار میں وہ غصے میں نہیں آنا چاہتی تھیں۔

’میں سمجھتی ہوں بُش وہی کہہ رہے تھے جسے وہ درست سمجھتے ہیں، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ان کی بات میں وزن نہیں ہے۔ ووٹرز کی حیثیت سے ہمارا حق ہے کہ ہمارے رہنماؤں کی معلومات اور ان کا استدلال بہتر ہو ۔‘

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس بات کے امکانات خاصے زیادہ ہیں کہ ریپبلکن پارٹی 2016 کے صدارت انتخابات میں جیب بش کو اپنا امیدوار بنا سکتی ہے۔

اسی بارے میں