’لیبر پارٹی کو ایک بہت بڑے بحران کا سامنا ہے‘

جان کروڈاس تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لیبر پارٹی کو اپنی شکست کا از سرِ نو جائزہ لینا چاہیے

برطانیہ میں لیبر پارٹی کے ایک ممبر پارلیمان نے کہا کہ ان کی جماعت کو یقینی طور پر تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔

جان کروڈاس انتخابات میں پارٹی کی شکست کا جائزہ لینے والی ٹیم کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت اس لیے ہاری کیونکہ اس کی توجہ ’مائیکرو پالیسیز‘ پر مرکوز تھی اور اب اسے بنیادی طور پر یہ سوچنا ہے کہ وہ کس کے لیے ہے اور کن کی نمائندگی کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ لیبر نے سب سے بُری شکست کھائی ہے اور اب اسے نتائج کا بڑی تحمل مزاجی سے بیٹھ کر جائزہ لینا ہے۔

ریڈیو 4 کے پروگرام ’دی ورلڈ دِس ویک‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے جان کروڈاس نے کہا کہ ’یقینی طور پر یہ لیبر پارٹی کی تاریخ میں سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک ہے۔‘

’میں کہا کرتا تھا کہ 2010 کی شکست حقیقت میں 1918 کے بعد لیبر کی تاریخ کی سب سے بڑی شکست تھی، اور 10 دن پہلے کی شکست تو بہت ہی بری، سو اس لیے یہ مزید اثر رکھتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو چاہیے کہ وہ ’اپنی شناخت کے سفر پر نکلے‘ کیونکہ ووٹرز اب یہ نہیں جانتے کہ اس کی اقدار کیا ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں ایڈ ملی بینڈ کے بعد کس کو پارٹی کا سربراہ بنانا چاہیے تو کا کہنا تھا کہ ’ایسا شخص پارٹی کا لیڈر بنے جو شکست کی طرف واپس جائے، اس کو تسلیم کرے اور حقیقی قیادت دکھائے۔‘

انھوں نے کہا کہ 10 روز پہلے والی شکست پر آہ و زاری کرنے کی بجائے نئے قائد کو مشکل مقامات کی طرف جانا چاہیے اور بنیادی طور پر از سرِ نو سوچنا چاہیے کہ لیبر پارٹی کے کیا اصول ہیں، وہ کن کی نمائندگی کرتی ہے، اور وہ کیا ہے۔‘

لیبر پارٹی کی قیادت کی دوڑ میں شامل ایک اور رہنما اینڈی برناہم کا بھی کہنا ہے کہ ’یہ گراؤنڈ زیرو‘ نہیں۔

اینڈی برناہم نے ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ لیبر پارٹی کے رہنما بن جاتے ہیں تو وہ یورپی اتحاد میں برطانیہ کی رکنیت کے متعلق 2016 کے ریفرنڈم کی حمایت کریں گے تاکہ برطانوی تجارتی کاروبار میں غیر یقینی صورت حال ختم کی جا سکے۔

ان کے علاوہ یویٹ کوپر، لز کینڈل اور میری کرے نے بھی لیبر کی قیادت کی دوڑ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے اور کچھ بعد میں اس کے متعلق اعلان کریں گے۔