امریکی پولیس کو فوجی طرز کا سامان دینے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کی جانب سے کیموفلاج وردیاں پہننے اور احتجاجیوں سے نمٹنے کے لیے دیگر ساز و سامان سے لیس ہونے پر تنقید کا طوفان کھڑا ہوگیا

امریکی صدر براک اوباما نے مقامی پولیس کو خاص فوجی طرز کا سازوسامان فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی پولیس کو اب فوجی طرز کی بکتر بند گاڑیاں، کیموفلاج وردیاں اور دستی بم پھیکنے والے لانچر نہیں دیے جائیں گے۔

یہ اعلان اس تنقید کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس نے فرگوسن، میسوری میں گزشتہ برس ہونے والے احتجاج پر قابو پانے اور مظاہرین سے نمٹنے میں بہت سختی کی تھی۔

امریکہ میں افریقی النسل امریکی طبقے اور پولیس کے درمیان کافی زیادہ کشیدگی پائی جاتی ہے۔

پولیس کی جانب سےگولی چلائے جانے کے کئی جان لیوا واقعات نے باہمی اعتماد کو ختم کر دیا ہے اور پورے امریکہ میں اس وجہ سے احتجاج ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ میں افریقی النسل امریکی طبقے اور پولیس کے درمیان کافی زیادہ کشیدگی پائی جاتی ہے

فرگوسن اور بالٹی مور میں اسی نوعیت کا احتجاج پُرتشدد ہوگیا تھا جس کے دوران مظاہرین نے لوٹ مار شروع کر دی اور جگہ جگہ آگ لگائی۔

لیکن پولیس کی جانب سے کیموفلاج وردیاں پہننے اور احتجاجیوں سے نمٹنے کے لیے دیگر ساز و سامان سے لیس ہونے پر تنقید کا طوفان کھڑا ہوگیا۔

ایک تحقیق کے مطابق اس بات کا ’کافی زیادہ خطرہ موجود ہے کہ فوجی طرز کی گاڑیوں جیسے ساز و سامان کا غلط یا ضرورت سے زیادہ استعمال‘ ہو سکتا ہے اور ان کی موجودگی سے پولیس پر عوامی بھروسے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس چاہتاہے کہ امن ِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے پاس ضروری سامان ہو۔

لیکن ایک جائزے کے دوران پتا چلا ہے کہ پانچ وفاقی ایجنسیوں نے 92442 چھوٹے ہتھیار، 44275 رات کو دیکھنے میں مددگار آلات، 5235 ہم ویز گاڑیاں، 617 بارودی سرنگوں سے محفوظ رہنے والی گاڑیاں اور 616 طیارے خریدنے پر 18 ارب ڈالر خرچ کر دیے۔

اسی بارے میں