شیعہ ملیشیا رمادی کے قریب، امریکہ بھی مدد کرے گا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

عراق کے سب سے بڑے صوبے الانبار کے دارالحکومت رمادی کا قبضہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے واپس لینے کی کارروائی میں شرکت کے لیے شیعہ ملیشیا کے ہزاروں جنگجو رمادی کے نواح میں جمع ہوگئے ہیں۔

ادھر امریکہ نے بھی اس کارروائی میں عراقی فوج کی مدد کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کارروائی میں شیعہ ملیشیا کے کردار کی گنجائش بھی موجود ہے بشرطیکہ یہ جنگجو عراقی حکومت کے کنٹرول میں رہیں۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ قندیل شام کی ویڈیو رپورٹ

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے اتوار کو رمادي پر قبضہ کر لیا تھا۔

محکمۂ دفاع کے ایک ترجمان کرنل سٹیو وارن نے پیر کو صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ جوابی حملے کے وقت کا تعین کرنا عراقی حکومت کا کام ہے لیکن اس کارروائی میں اسے امریکی مدد حاصل رہے گی۔

بغداد سے صرف 70 میل کی دوری پر واقع رمادی کے ایک سرکاری اہلکار کے مطابق شہر سے بڑی تعداد میں افراد نقل مکانی کر رہے ہیں جبکہ ایک اور سرکاری اہلکار کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے حملے میں عام شہریوں سمیت 500 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی ترجمان نے رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دی اور کہا کہ نہ تو رمادی زیادہ سٹریٹیجک اہمیت کا حامل شہر ہے اور نہ ہی اس پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ امریکی عسکری حکمتِ عملی کے لیے دھچکا نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رمادی میں دولتِ اسلامیہ کے سامنے سرکاری فوج کی پسپائی کے بعد عراقی حکومت نے ایک بار پھر شیعہ ملیشیا کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے

کرنل وارن کا کہنا تھا کہ ’ایک مقام پر ہونے والی لڑائی کو اتنی اہمیت دینا ایک غلطی ہے۔ اس کا مطلب ہمارے لیے صرف یہ ہے کہ اتحادی فوج اور ہمارے عراقی ساتھیوں کو واپس جانا ہے اور رمادی کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔‘

محکمۂ دفاع کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رمادی پر دوبارہ قبضے کی لڑائی میں شیعہ ملیشیا بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ جنگجو عراق کی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں رہیں۔

ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا نے دو ماہ قبل تکریت کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے میں اہم کردار ادا کیا تھا تاہم شہر میں لوٹ مار اور پرتشدد واقعات کے بعد انھیں علاقے سے باہر بلا لیا گیا تھا۔

اب رمادی کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے عراقی حکومت نے ایک بار پھر شیعہ ملیشیا کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ دولتِ اسلامیہ کے سامنے سرکاری فوج کی پسپائی کے بعد کیا گیا اور شیعہ ملیشیا کے جنگجو پیر کو رمادی کے مشرق میں جمع ہوئے ہیں تاکہ شہر پر حملے کی تیاری کی جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رمادی سے بڑی تعداد میں افراد نقل مکانی کر رہے ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز نے انبار کی صوبائی کونسل کے سربراہ صباح کرہوت کے حوالے سے کہا ہے کہ شیعہ جنگجو رمادی سے 20 کلومیٹر دور حبانیہ میں ’تیار‘ ہیں اور ضرورت پڑنے پر طلب کیے جا سکتے ہیں۔

صوبائی کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ تقریباً تین ہزار شیعہ جنگجو رمادی کے ان تمام علاقوں کو آزاد کروانے کے لیےانبار پہنچ چکے ہیں، جہاں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔‘

تاہم عینی شاہدین کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے رمادی کے نواح میں الخالدیہ نامی اس قصبے کی جانب بھی پیش قدمی کی ہے جو حبانیہ کے فوجی اڈے کے قریب واقع ہے۔

خیال رہے کہ عراقی صوبہ انبار میں سنّی آبادی اکثریت میں ہے اور اس کی سرحدیں ایک طرف شام اور دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد سے ملتی ہیں۔

اسی بارے میں