’دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے کوشاں دس کینیڈین نوجوان گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مغربی ممالک سے کئی نوجوانوں کے شولتِ اسلامیہ میں شمولیت کی اطلاعات ہیں

کینیڈین پولیس نے عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے ارادہ رکھنے کے شبے میں دس نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

سابق دہشت گردوں پر کوئی رحم نہیں ہوگا

برطانوی لڑکیوں کا شام کا سفر

اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے کے اختتام پر تمام دس نوجوانوں کو مونٹریالز ٹروڈو نامی بین لاقوامی ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا اور ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں کینیڈا کی پارلیمان نے دہشت گردی کے مقابلے کے لیے ملک کے سکیورٹی اداروں کو وسیع تر اختیارات دینے کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

اس قانون کے تحت جہاں ملک کا خفیہ ادارہ اندرون ملک اور بیرونِ ملک مشتبہ افراد کی نگرانی کا دائرہ بڑھا سکےگا وہیں پولیس کے لیے ایسے افراد کو بغیر مقدمہ درج کیے حراست میں رکھنا آسان ہو جائے گا۔

پولیس کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ابھی تک زیرِ حراست کسی بھی مشتبہ نوجوان پر الزام نہیں ثابت ہوا تاہم تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نوجوانوں کے اہلِ خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔

بیان میں مزید لکھا گیا ہے کہ زیرِ حراست نوجوانوں کے خاندانوں کے لیے یہ مشکل وقت ہے کیونکہ ملک چھوڑ کر جانے کا فیصلہ خاندان کا نہیں بلکہ خاندان کے فردِ واحد کا تھا۔

’اس کے نتیجے میں خاندان کے افراد اکثر اوقات سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں اور بچے کے فیصلے کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔‘

پولیس نے زیرحراست نوجوانوں کی شناخت ظاہر کرنے یا کسی بھی قسم کی معلومات دینے کہ ان کی گرفتاری کیسے ممکن ہوئی سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔

سٹیو بلینی جو کہ کینیڈا میں عوامی تحفظ کی وزارت کے سربراہ ہیں نے نوجوانوں کو حراست میں لینے والے افسران کو حراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اور انھیں پیغام دیا ہے کہ بین لاقوامی دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر وہ عوام کے تحفظ کے لیے اپنا چست طرز عمل جاری رکھیں۔

خیال رہے کہ کینیڈا عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے وہاں موجود بین القوامی اتحداد کا حصہ ہے۔

گذشتہ برس اکتوبر میں کینیڈا کے دارالحکومت اوٹوا میں قومی جنگی یادگار اور پارلیمنٹ کی عمارات پر ایک مسلح شخص نے حملہ کیا تھا جس میں ایک فوجی مارا گیا تھا۔

اسی بارے میں