عراقی حکومت کو رمادی کی لڑائی کے لیے رضاکاروں کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رمادی کا ہاتھ سے جانا عراقی حکومت اور علاقے میں امریکی حکمتِ عملی کے لیے بڑا دھچکہ سمجھا جا رہا ہے

عراقی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ سے صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کا قبضہ واپس لینے کی لڑائی میں رضاکارانہ طور پر شرکت کریں۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اتوار کو رمادی پر قبضہ کیا تھا اور عراقی حکومت نے شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی خدمات حاصل کی ہیں جو اس وقت شہر کے مشرق میں موجود ہیں۔

کابینہ کے بیان میں عراقی عوام سے داعش کے خلاف بطور قوم اکٹھے رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ انبار اور نینوا میں موجود عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

عراقی کابینہ نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ عراقی حکومت دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقے کا چپہ چپہ آزاد کروائے گی۔

کابینہ نے عراقی فوج، عوامی رضاکاروں،اور عراقی فوج کی جنرل کمان کے ماتحت قبائلی جنگجوؤں کے ذریعےانبار صوبے کو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروانے کے لیے ملک کے کمانڈر ان چیف کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔

عراق کی کابینہ کے بیان میں ان سکواڈز میں رضاکاروں کی بھرتی کے فیصلے کی توثیق کی گئی ہے جہاں فوج کی تعداد کم ہے۔ فوجی دستوں کی کمی کا سامنا کرنے والے علاقوں میں مغربی انبار بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ لڑائی سے فرار ہونے والوں کے کنٹریکٹ ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

کابینہ نے انبار کے زیرِ قبضہ علاقوں کی دولتِ اسلامیہ سے رہائی کے بعد مقامی پولیس کی تربیت اور تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔

اس کے علاوہ عالمی برادری اور ہمسایہ ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں حکومتِ عراق کی مدد کرے۔ اس ضمن میں اسلحے کی فراہمی کے علاوہ جنگ کے بعد علاقے کی تعمیرنو کے لیے فنڈز کی فراہمی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

ادھر امریکہ کی قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ انبار میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والی زمینی فوج کی ’مدد کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔‘

کونسل کے ترجمان الیسٹر باسکی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ممکنہ اقدامات میں ’مقامی قبائلیوں کی جلد از جلد تربیت اور انھیں مسلح کرنا بھی شامل ہے تاکہ رمادی کا قبضہ واپس لینے کے عراقی آپریشن کی مدد کی جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ کے جنگجو پولیس والوں اور حکومت کے حمایت یافتہ قبائلیوں کے گھروں میں زبردستی داخل ہوتے ہیں

رمادی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں شہر پر اپنا قبضہ مضبوط کر رہے ہیں اور انھوں نے نہ صرف دفاعی مورچے قائم کیے ہیں بلکہ شہر میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں۔

مقامی شہریوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جنگجو حکومت کے حامیوں اور ہمدردوں کو ڈھونڈنے کے لیے گھر گھر تلاشی لے رہے ہیں اور ان افراد کو ہلاک کر کے ان کی لاشیں دریائے فرات میں پھینک دی جاتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک انسانی بحران ہے۔ حالیہ دنوں میں 25 ہزار افراد شہر چھوڑ چکے ہیں اور ان میں سے اکثر کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ رمادی کا ہاتھ سے جانا عراقی حکومت اور علاقے میں امریکی حکمتِ عملی کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ں ہزاروں افراد شہر چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں اور اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک انسانی بحران ہے

نامہ نگار کے مطابق اس شہر کو واپس حاصل کرنا عراقی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے اور اس کے لیے اسے شیعہ جنگجوؤں کی مدد درکار ہے حالانکہ اس کا سنگین ردِ عمل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ شیعہ ملیشیا کو سنیوں کے اہم علاقے میں بھیجا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شیعہ ملیشیا کے تقریباً 3,000 لوگ رمادی شہر سے 20 کلومیٹر دور الحبانیہ ملٹری کیمپ میں رمادی شہر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

منگل کو انبار کے پولیس سربراہ خادم الفہداوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ رمادی کے قریبی شہر حصیبہ میں بھی تیار فوجیوں نے پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراقی حکومت نے شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی خدمات حاصل کی ہیں

الحشد الشعبي نامی شیعہ ملیشیا نے اپریل میں شمالی شہر تکریت کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اگرچہ ان کی موجودگی کو کئی سنی رہنماؤں نے خوش آمدید کہا تھا لیکن رمادی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان سے بھی اتنا ہی ڈرتے ہیں جتنا دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے۔

اسی بارے میں