شام کے قدیم شہر پیلمائرا پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگجو ابھی تک شہر کے جنوب میں واقع تاریخی کھنڈرات تک نہیں پہنچ سکے ہیں

شام کی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تاریخی شہر پیلمائرا کی جانب پیش قدمی کے سبب سرکاری فوج شہر سے پسپا ہو گئی ہے۔

دولت اسلامیہ ایک ہفتے سے قدیم تاریخی شہر پیلمائرا کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی۔

پیلمائرا کو تدمر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہاں اسلام کی آمد سے قبل پہلی اور دوسری صدی کے آثارِ قدیمہ موجود ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جنگجو شہر پر قبضے کے بعد اس تاریخی ورثے کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

ریگستان کے وینس کو شدت پسندوں سے خطرہ

شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج نے شہر خالی کر دیا ہے اور بیشتر شہریوں کو بھی وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اب شہر کے جنوب میں واقع صدیوں پرانے کھنڈرات کا رخ کر رہے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

خیال رہے کہ دولت اسلامیہ نے عراق میں نمرود اور حضر جیسے قدیم شہروں پر قبضے کے بعد وہاں موجود صدیوں پرانے تاریخی آثار کو تباہ کر دیا تھا۔

ایک عینی شاہد نے تصدیق کی ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اب پیلمائرا کے شمالی حصے پر مکمل طور پر قابض ہو گئے ہیں اور ان کی پیش قدمی جاری ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیلمائرا میں موجود ایک سیاسی کارکن عمر حمزہ کا کہنا تھا کہ شدت پسند حکومتی افواج اور حکومت کی حامی ملیشیا سے شدید لڑائی کے بعد شہر کے مرکزی ہسپتال اور مغربی علاقے کے کچھ حصوں پر بھی قبضہ کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ European Photopress Agency
Image caption خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جنگجو پیلمائرا پر قبضے کے بعد اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے

انھوں نے بتایا کہ شہر کے مشرقی حصے میں بھی پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں جبکہ شہر پر دولتِ اسلامیہ اور حکومتی افواج دونوں کی جانب سے گولہ باری کی گئی ہے۔

جنگجو ابھی تک شہر کے جنوب میں واقع ان تاریخی کھنڈرات تک نہیں پہنچ سکے ہیں جن کا شمار مشرقِ وسطیٰ کے سب سے قیمتی تاریخی ورثے میں ہوتا ہے۔

شام کے تاریخی ورثے کے محکمے کے سربراہ مامون عبدالکریم نے کہا ہے کہ وہاں سے سینکڑوں مجسموں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ساری دنیا کی جنگ ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ثقافت یونیسکو کی سربراہ کا بھی کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔

پیلمائرا کے نوادرات کو ’ریگستان کی دلہن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ پیلمائرا کی تاریخی عمارتیں دوسری صدی عیسوی میں تعمیر ہوئیں اور وہ یونانی، ایرانی اور رومن فن تعمیر کا امتزاج ہیں۔

اسی بارے میں