دنیا کے چھ بڑے بینکوں کو اربوں ڈالر جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption سب سے زیادہ دو ارب 40 کروڑ ڈالر کا جرمانہ بارکلیز بینک پر لگایا گیا ہے

دنیا کے چھ بڑے بینکوں پر زرمبادلہ کی عالمی مارکیٹ میں مصنوعی اتار چڑھاؤ سمیت متعدد الزامات کے تحت مجموعی طور پر تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

ان بینکوں میں جے پی مورگن، سٹی گروپ، بارکلیز، رائل بینک آف سکاٹ لینڈ، بینک آف امریکہ اور یو بی ایس شامل ہیں۔

ان میں سے جے پی مورگن، سٹی گروپ، بارکلیز، رائل بینک آف سکاٹ لینڈ نے امریکی محکمۂ انصاف اور فیڈرل ریرزو کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ یو بی ایس شرح سود میں دھاندلی کے الزام کو قبول کرے گا۔

سب سے زیادہ دو ارب 40 کروڑ ڈالر کا جرمانہ بارکلیز بینک پر عائد کیا گیا ہے کیونکہ اس نے برطانیہ، امریکہ اور سوئٹزرلینڈ کے حکام کی تفتیش میں تعاون نہیں کیا تھا۔

بارکلیز اس معاملے میں ملوث اپنے آٹھ ملازمین کو برخاست بھی کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption یو بی ایس کے سوا باقی چاروں نے امریکی محکمۂ انصاف اور فیڈرل ریرزو کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے

امریکی فیڈرل ریزرو نے بینک آف امریکہ کو بھی زرِ مبادلہ کے سلسلے میں بدعنوانی پر 25 کروڑ ڈالر کا جرمانہ کیا ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لنچ کا کہنا ہے کہ سنہ 2007 سے پانچ سال تک ’تقریباً روزانہ‘ زرِمبادلہ کا کاروبار کرنے والوں نے شرح تبادلہ کو اپنے مفاد میں طے کرنے کے لیے ایک نجی الیکٹرانک چیٹ روم کا استعمال کیا۔

ان کا کہنا ہے، ’ان بینکوں کی حرکت سے دنیا بھر میں ان گنت صارفین، سرمایہ کاروں اور اداروں کو نقصان ہوا۔‘

ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ سال 2008 سے سال 2012 کے درمیان کئی تاجروں نے ایک گروہ بنا لیا تھا اور انہوں نے اپنے فائدے کے لئے قیمتیں طے کیں. یہ کاروباری قیمتیں طے کرنے کے لئے کئی طرح کے ہتھکنڈے اپناتے تھے.

اسی بارے میں