’پیلمائرا اور رمادی میں دولتِ اسلامیہ کی فتوحات ایک دھچکا ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنّی اکثریتی علاقوں میں مقامی قبائل کی عسکری تربیت میں بھی اضافے کی کوشش کی جائے گی: براک اوباما

امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ شام میں پیلمائرا اور عراق میں رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے اس شدت پسند تنظیم کے خلاف جاری مہم کو دھچکا پہنچا ہے۔

تاہم امریکی صدر براک اوباما کا یہ بھی کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف ان حالیہ ناکامیوں کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یہ جنگ ہار رہا ہے۔

پیلمائرا کے تاریخی کھنڈرات دولتِ اسلامیہ کے رحم و کرم پر

ادھر اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اسے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شامی افواج نے تاریخی شہر پیلمائرا کے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں جانے سے قبل وہاں کی آبادی کو نقل مکانی نہیں کرنے دی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے یرجمان جان ارنسٹ نے جمعرات کو کہا ہے کہ شام کے تاریخی شہر پیلمائرا پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ اس کے خلاف امریکی قیادت میں برسرِپیکار اتحادی افواج کے لیے ایک ’دھچکا‘ ہے۔

تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی صدر ری پبلکنز کے اس مطالبے سے متفق نہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے مقابلے کے لیے امریکہ کی زمینی فوج روانہ کی جانی چاہیے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی حکام نے دولتِ اسلامیہ کی حالیہ فتوحات کو دھچکا قرار دیا ہے۔

رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے بعد امریکی محکمۂ دفاع کے لیے ترجمان نے کہا تھا کہ نہ تو رمادی زیادہ سٹریٹیجک اہمیت کا حامل شہر ہے اور نہ ہی اس پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ امریکی عسکری حکمتِ عملی کی ناکامی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اکثر شہری اس وقت ہی پیلمائرا سے بھاگنے میں کامیاب ہو سکے جب شامی افواج خود شہر سے پسپا ہوگئیں

جمعرات کو ہی ایک امریکی رسالے کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ دولتِ اسلامیہ کے مقابلے کے لیے جہاں عراقی افواج کو مزید مدد فراہم کرے گا وہیں سنّی اکثریتی علاقوں میں مقامی قبائل کی عسکری تربیت میں بھی اضافے کی کوشش کی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے اپنے نمائندے تو پیلمائرا میں موجود نہیں تاہم اس کا کہنا ہے کہ اسے یہ اطلاعات ’باوثوق ذرائع‘ سے ملی ہیں کہ شامی افواج نے اپنی پسپائی تک شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل نہیں ہونے دیا۔

عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں پھنس جانے والے عام شہریوں کی حالتِ زار کے بارے میں ’شدید تشویش‘ کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک ترجمان روینا شمداسانی نے جینیوا میں بی بی سی کو بتایا کہ پیلمائرا کے کھنڈرات کے ساتھ واقع تدمر نامی شہر کی آبادی دو لاکھ کے لگ بھگ تھی جن میں سے ایک تہائی افراد ہی نقل مکانی کر سکے ہیں۔

پرامن حالات میں تدمر کی آبادی 70 ہزار کے قریب تھی لیکن حالیہ عرصے میں جنگ سے متاثرہ دوسرے علاقوں سے بھی لوگ اس قصبے میں آ بسے جس کی وجہ اس کی آبادی پہلے سے زیادہ ہوگئی تھی۔

روینا شمداسانی کے مطابق اکثر شہری تدمر پر دولتِ اسلامیہ کے اتوار کو قابض ہونے سے دو یا تین دن قبل ہی اس وقت بھاگنے میں کامیاب ہو سکے جب شامی افواج خود شہر سے پسپا ہوگئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption پیلمائرا کے شہری اس بات پر بھی مشتعل ہیں کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی توجہ ان کی بجائے شہر کے قریب واقع کھنڈرات پر مرکوز ہے

ترجمان کا کہنا تھا کہ اب تدمر یا جدید پیلمائرا شہر میں بدھ سے بجلی منقطع ہے کیونکہ حکومتی افواج پسپائی اختیار کرتے ہوئے بجلی گھر کو تباہ کر گئی ہیں۔

شام کے حالات پر نظر رکھنے کی ایک تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے پیلمائرا کے ہوائی اڈے، جیل اور خفیہ ادارے کے صدر دفتر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

شامی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اس نے شہر سے فوجیں نکال لی ہیں اور بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حکومتی افواج کے شہر سے انخلا کے بعد شدت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

خیال رہے کہ شامی حکومت اور سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ شامی افواج زیادہ تر رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیے جانے کے بعد ہی شہر سے نکلیں۔

ایک سیاسی کارکن نے جس کے اہلخانہ اب بھی پیلمائرا میں ہی ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ اس کے رشتہ دار اور اہلِخانہ بھاگنا چاہتے تھے لیکن انھیں راستہ ہی نہیں دیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوؤں کے برعکس دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے قبل شہر سے بہت کم لوگوں کو ہی نکالا جا سکا ہے

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اب شہر میں حکومتی افواج کے ارکان کو تلاش کر رہے ہیں اور انھوں نے مساجد میں اعلان کروائے ہیں کہ شہری ان افراد کو پناہ نہ دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Unknown
Image caption دولت اسلامیہ کے جنگجو تاریخی شہر پیلمائرا پر قبضے کے بعد اس کے نواح میں واقع صدیوں پرانے کھنڈرات پر بھی قابض ہوگئے ہیں

سیاسی کارکن کے مطابق پیلمائرا کے شہری اس بات پر بھی مشتعل ہیں کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی توجہ ان کی بجائے شہر کے قریب واقع کھنڈرات پر مرکوز ہے۔

خیال رہے کہ شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجو تاریخی شہر پیلمائرا پر قبضے کے بعد اس کے نواح میں واقع صدیوں پرانے کھنڈرات پر بھی قابض ہوگئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے ان آثارِ قدیمہ کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند انھیں تباہ و برباد کر سکتے ہیں۔

یونیسکو کا کہنا ہے کہ ان تاریخی باقیات کی تباہی ’انسانیت کے لیے بڑا بہت نقصان ہوگا۔‘ تاہم تاحال ان آثارِ قدیمہ کو نقصان پہنچائے جانے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ ماضی میں عراق میں نمرود اور حضر کے تاریخی ورثے کو تباہ و برباد کر چکی ہے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میئور کا کہنا ہے ساری دنیا کی توجہ پیلمائراکے ثقافتی ورثے پر مرکوز ہونے کی وجہ سے شدت پسند شاید پہلی فرصت میں ہی اس قیمتی تاریخی ورثے کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں