عراق میں فوجی کے ’قتل‘ پر برطانیہ میں سزا

انیس سردار تصویر کے کاپی رائٹ METROPOLITAN POLICE
Image caption انیس سردار نے پہلے جرم سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں انگلیوں کے نشانات ملنے کے بعد اقرار کر لیا

لندن کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو 2007 میں عراق میں ایک امریکی فوجی کو ہلاک کرنے کے جرم میں کم از کم 38 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ویمبلے سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ انیس سردار عراق میں امریکیوں کو قتل کرنے کے لیے بم بناتے تھے، اور ان کے بنائے ہوئے ایک بم سے 34 سالہ امریکی فوجی ہلاک ہوا تھا۔

جب جج نے سردار کو بتایا کہ وہ بہت لمبے عرصے تک جیل میں رہیں گے تو انھوں نے کسی قسم کے جذبات کا اظہار نہیں کیا۔

اپنے مقدمے کے دوران سردار نے جیوری کو بتایا تھا کہ وہ عراق میں بغاوت میں اس لیے شامل ہوئے تھے کہ وہ اپنے مسلک سے تعلق رکھنے والے سنی مسلمانوں کو شیعہ جنگجوؤں سے بچا سکیں۔

لیکن وولچ کراؤن کورٹ میں سزا سناتے ہوئے جج نے سردار کے اپنے دفاع میں اس موقف کو رد کیا کہ انھوں نے سنی برادری کو بچانے کے لیے صرف ایک مرتبہ بم بنایا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں مطمئن ہوں کہ جرم کرتے ہوئے تمہاری یہ سوچ تھی کہ امریکی بھی شیعہ ملیشیا کی طرح دشمن ہیں۔ دونوں ہی تمہاری سوچوں میں رہتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سارجنٹ رینڈی جونسن کی موت گھریلو ساخت کے بم سے ہوئی تھی

مسٹر جسٹس گلوب نے کہا کہ سردار اور ان کے حواریوں کے بنائے ہوئے بم بڑے ہی پروفیشنل طریقے سے بنائے گئے تھے بلکہ حقیقت میں وہ بارودی سرنگیں تھیں۔

جج نے سردار کو کہا کہ سارجنٹ جونسن کے دو بچے تھے، اور ان کے کمانڈنگ آفیسر میجر ایرک ایڈمز انھیں بہت ہی زیادہ ہمدرد انسان بتاتے ہیں۔

جج نے کہا کہ ’یہ بہت ہی دلخراش اتفاق ہے کہ جب آٹھ پہیوں والی گاڑی سٹرائیکر جس میں امریکی فوجی بیٹھے تھے، بارودی سرنگ پر چڑھی تو سارجنٹ فرسٹ کلاس جونسن ہی کی موت ہوئی۔‘

انیس سردار کو برطانیہ میں سزا کیوں دی گئی؟

بی بی سی کے نامہ نگار ڈومینیک کاسیانی کہتے ہیں کہ کس طرح ایک شخص پر جو ایک غیر ملکی جنگ میں بم بناتا تھا، برطانوی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

سارجنٹ جونسن عراق کی افراتفری میں ہلاک ہوئے لیکن جہاں تک برطانوی تفتیش کاروں اور کراؤن پروسیکیوشن سروس کا تعلق ہے وہ جنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ دہشت گردی کے عمل کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈومینیک کہتے ہیں کہ قانونی حوالے سے وہ ایک برطانوی شہری تھے جنھوں نے بیرون ملک جرم کیا تھا۔

’عام طور پر ملک کے قانون کا اطلاق ان جرائم پر ہی ہوتا ہے جو برطانیہ میں کیے جاتے ہیں۔ لیکن قتل ان چند سنگین جرائم میں سے ایک ہے جو غیر علاقائی ہیں۔‘

سنگِ میل فیصلہ

جمعرات کو برطانوی عدالت میں سردار کی سزا کے فیصلے کو ایک ’سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والا فیصلہ‘ کہا گیا۔

کراؤن پروسیکیوشن سروس کی سو ہیمنگ نے کہا کہ اس سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ برطانوی دہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے بین الاقوامی سرحدیں کوئی حدود نہیں ہیں اور وہ دنیا میں جہاں کہیں بھی قتل کریں گے انھیں یہاں سزا دی جائی گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ JULIA QUENZLER
Image caption سردار نے فیصلے کے بعد کسی قسم کے جذبات کا اظہار نہیں کیا

سردار کو ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر سارجنٹ جونسن کی موت کے دو ماہ بعد روکا گیا تھا جب وہ عراق سے واپس آ رہے تھے۔ اس وقت ان کے انگلیوں کے نشانات بھی لیے گئے تھے۔

2012 میں ایک اور تفتیش کے دوران پولیس نے ان کے گھر میں عربی زبان میں بم بنانے کا رسالہ دیکھا تھا۔

پہلے پہل سردار نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ ان کا براہ راست یا بالواسطہ بم بنانے سے کوئی تعلق ہے۔ لیکن پھر دوسرے دن انھوں نے اقرار کر لیا کہ بغداد کے مغرب میں چار آلات پر ملنے والے انگلیوں کے نشان انھی کے ہیں۔

امریکہ کی سربراہی میں عراق پر چڑھائی 2003 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب یہ کہا گیا تھا کہ عراقی صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ اور اس کے بعد کئی سال سے مختلف گروہوں کے درمیان پر تشدد جنگ جاری ہے۔

برطانوی فوج نے 2009 میں لڑاکا آپریشن ختم کر دیا تھا اور اس کے ایک سال بعد امریکہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس آپریشن میں برطانوی فوج کے 179 اور امریکی فوج کے 4,500 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں