جیب کتروں کے ’حملوں‘ کے بعد آئفل ٹاور بند

آئفل ٹاور تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئفل ٹاور کے عملے کے مطابق جیب کتروں کے گروہوں نے ان کا اور سیاحوں کا جینا حرام کر دیا ہے

پیرس میں واقع مشہور آئفل ٹاور کو اس وقت بند کر دیا گیا جب اس کے عملے نے وہاں جیب کتروں کے گروہوں میں اضافے پر احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔

کارکن کہتے ہیں کہ ان پر ان جیب کتروں کی جانب سے حملوں اور گالی گلوچ کر کے دھمکانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس سیاحتی مقام کی منتظم کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر سٹاف اور پبلک کی سکیورٹی کے متعلق پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں لیکن کمپنی کو اس بات پر افسوس ہے کہ سیاحوں کو اس کی سزا مل رہی ہے۔

126 سال پرانا لوہے کا یہ مینار پیرس کا جگمگاتا ہوا نشان ہے۔

سٹاف کا کہنا ہے کہ کمپنی کی انتظامیہ انھیں رسمی طور پر ضمانت دے کہ جیب کتروں کے گروہوں کو روکے گی جو روزانہ کئی سیاحوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

احتجاج کرنے والے عملے کے ایک رکن نے کہا کہ ’چور چار سے پانچ افراد کا گینگ بناتے ہیں اور کبھی کبھار تو ٹاور کے گرد 30 افراد تک جمع ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔‘

ایک اور احتجاج کرنے والے نے کہا کہ ایک جیب کترے کا پیچھا کرتے ہوئے اسے بھی دھمکایا گیا تھا۔

’اس نے مجھے کہا کہ تم ہمیں کام کیوں نہیں کرنے دیتے۔۔۔ اگر (دخل اندازی) جاری رہی تو تمہارے لیے مشکل ہو جائے گی۔‘

اپریل 2013 میں بھی اس وقت اسی طرح کی بندش ہوئی تھی جب لوو آرٹ گیلری کو بند کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ جیب کترے سٹاف کو نہ صرف ہراساں کرتے تھے بلکہ ان پر حملہ کرتے تھے۔

اس کے بعد میوزیم کے حفاظت کے لیے مزید پولیس بھیج دی گئی۔ اس میوزیم کو ہر سال ایک کروڑ افراد دیکھتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پیرس میں 2014 میں دو کروڑ 20 لاکھ سیاح آئے تھے۔ اور یہ دنیا کے سب سے اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک ہونے کے باوجود جیب کتروں اور چال بازوں کا گڑھ ہے جو کہ امیر ایشیائی سیاحوں کو لوٹتے ہیں۔

اخبار لبریشن نے جمعے کو رپورٹ کیا تھا کہ تمام گرمیوں میں جیب کتروں کے خطرے کے پیشِ نظر شہر میں 26,000 پولیس اور میونسیپل ایجنٹوں کو تعینات کیا جائے گا۔

ٹاور کو اب سنیچر کو دوبارہ کھولا جائے گا۔

اسی بارے میں