ہالینڈ کی حکومت کا نقاب پر پابندی لگانے کا ارادہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپ میں نقاب پر پابندی کا معاملہ نیا نہیں اور فرانس نے سنہ 2010 سے پورے چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کی ہوئی ہے

یورپی ملک ہالینڈ کی کابینہ نے عوامی مقامات پر پورے چہرے کے پردے پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی ہے۔

اس قانون کے نفاذ کے لیے اس کی منظوری ملک کی پارلیمان سے لی جانا ضروری ہے اور وزیرِ اعظم مارک روٹ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کسی مذہب سے امتیازی سلوک نہیں۔

مجوزہ قانون کے تحت ملک میں عوامی ٹرانسپورٹ، سکولوں، ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی ہوگی اور اس میں نقاب کے علاوہ سکیئنگ کے لیے پہننے جانے والے ماسک اور ہیلمٹ بھی شامل ہوں گے۔

ہیگ میں صحافیوں سے بات چیت میں ہالینڈ کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہالینڈ جیسے آزاد ملک میں ہر کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کی اجازت ہے۔ یہ آزادی صرف اس صورتحال میں محدود ہو گی جب لوگوں کا ایک دوسرے کو دیکھنا ضروری ہو۔‘

ماضی میں ہالینڈ کی حکومت کی جانب سے برقع پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کو ملک کے آئین میں مذہبی آزادی کی شقوں سے متصادم قرار دیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ یورپ میں نقاب پر پابندی کا معاملہ نیا نہیں اور فرانس نے سنہ 2010 سے پورے چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

یورپ کی عدالت برائے انسانی حقوق نے گذشتہ برس فرانس کی جانب سے لگائی جانے والی اس پابندی کی توثیق کی تھی۔

یاد رہے کہ فرانسیسی قانون کے مطابق ملک میں کوئی بھی خاتون عوامی مقامات پر ایسا لباس نہیں پہن سکتی جس کا مقصد چہرے کو چھُپانا ہو۔

اس قانون کی خلاف ورزی پر آپ کو 150 یورو کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون سنہ 2010 میں صدر نکولس سرکوزی کی قدامت پسند حکومت کے دور میں منظور ہوا تھا۔

اسی بارے میں