آئرلینڈ میں ہم جنس شادیوں پر ریفرینڈم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption توقع ہے کہ ریفرینڈم کے نتائج سینچر تک سامنے آ جائیں گے

کیتھولک چرچ کی مخالفت کے باوجود آئرلینڈ میں آج ہم جنس شادیوں کو قانونی بنانے کے لیےریفرینڈم کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔

توقع ہے کہ 32 لاکھ افراد اس ریفرینڈم میں اس سوال کا جواب دیں گے کہ کیا وہ ملک کے آئین میں ایسی تبدیلی لانے کے لیے متفق ہیں جس کے تحت ہم جنس افراد کو شادی کرنے کا حق حاصل ہو جائے۔

پولنگ سٹیشن آج صبح مقامی وقت سات بجے کھلے اور ووٹنگ دس بجے رات تک جاری رہے گی۔

ہم جنس شادیاں 19 دیگر ممالک میں قانونی ہیں۔

آئرلینڈ کے کچھ جزیروں اور ہسپتالوں، محتاج خانوں اور تیمار خانوں میں پہلے ہی ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ صرف وہ آئرش شہری جو ملک میں رہائش کے لیے رجسٹرڈ ہیں ووٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں۔

ووٹروں سے پوچھا جائے گا کہ کیا وہ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ ’جنس کے قطعِ نظر کیا کوئی بھی دو افراد شادی کر سکتے ہیں؟‘ یہ ریفرینڈم آئرلینڈ میں ہم جنس پرستی کو جرم قرار نہ دینے کے 22 سال بعد منعقد ہو رہا ہے۔

سنہ 2010 میں حکومت نے سول پارٹنر شپ قانون بنایا تھا جس کے تحت ہم جنس پرست جوڑوں کو قانونی درجہ حاصل ہو گیا تھا۔

تاہم سول پارٹنرشپ اور شادی میں کئی فرق ہیں جن میں سےسب سے اہم یہ ہے کہ شادی کو آئینی تحفظ حاصل ہے لیکن سول پاٹنرشپ کو نہیں۔

سنہ 2013 میں آئرش حکومت کی جانب سے قائم کیے جانے والے آئینی کنونشن میں آئینی تبدیلیوں پر بحث ہوئی تھی اور شادی کے حقوق میں توسیع پر غور کیا گیا تھا۔

اس کنونشن نے ریفرینڈم کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد وزیر اعظم اینڈا کینی نے اس سال کے شروع میں ریفرینڈم کی تاریخ کا اعلان کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ آئرلینڈ میں صدارتی امیدواروں کی عمر 35 سے 21 کرنے کے بارے میں ایک لگ ریفرینڈم بھی منعقد ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں