ہم دولتِ اسلامیہ کو کتنا جانتے ہیں؟

دولتِ اسلامیہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے ایک بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے

گذشتہ ہفتے مشرقی شام میں امریکی خصوصی فورسز نے دولتِ اسلامیہ کے اہم رہنما ابو سیاف کو ہلاک کر دیا تھا جس کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے تیل اور گیس کے کاروبار کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔

امریکی کمانڈوز چاہتے تو انھیں زندہ گرفتار کرنا تھے لیکن گولی چل گئی جس میں ابو سیاف ہلاک ہو گئے۔ ان کو زندہ گرفتار کرنے کا مقصد ان سے تفتیش کر کے جاننا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کس طرح کام کرتی ہے۔

اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس تنظیم کے متعلق کتنا علم ہے جس نے گذشتہ برس دیکھتے دیکھتے شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا اور امریکی سربراہی والے اتحاد کی مہینوں فضائی بمباری کے باوجود ابھی تک بہت سے علاقے پر قابض ہے۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟

بڑے پیمانے پر دیکھیں تو دولتِ اسلامیہ کی شکل بہت واضح ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption ابو بکر البغدادی کے متعلق متضاد خبریں گردش کر رہی ہیں

کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام مسلم دنیا میں ایک خلافت قائم کی جائے، جس کا ایک رہنما ہو اور یہ اسلامی قوانین اور شریعت کے تحت ہو۔

دیگر دوسرے مزاحمت کاروں اور جنگجو گروہوں کے برعکس اس نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جس پر وہ حکومت کرنا چاہتی ہے۔ اس کا اپنا بیوروکریٹک سسٹم ہے جو بالکل جدید ریاستوں کی طرح ہے۔

اس کے رہنما یا خلیفہ ابراہیم البراہیم علی البدری السمارائی ہیں جنھیں عام طور پر ابو بکر البغدادی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

وہ مشاورتی کونسل اور انتظامی شعبوں کے ڈھانچے میں سب سے اوپر ہیں جن کو علاقائی اور مقامی سطح پر دہرایا جاتا ہے۔ یہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس سے لے کر مالیات، میڈیا، صحت اور خاندانی اور قانونی مسائل تک دیکھتے ہیں۔

خیال ہے کہ دولتِ اسلامیہ شام اور عراق میں ’ون پلس فور‘ کے کمانڈ سٹرکچر کے تحت کام کرتی ہے۔ ابو بکر البغدادی سب سے اوپر اور نیچے تک صوبائی اور ڈسٹرکٹ سطح تک دولتِ اسلامیہ کا ایک رہنما ہے اور اس کے چار مشیر۔ دولتِ اسلامیہ کے تیز عروج کے منصوبوں کے متعلق حاجی بکر کی دستاویز میں درج ہے۔ جرمنی کے دیر شپیگل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق حاجی بکر گروہ کے معمار ہیں۔

انھوں نے شہروں کی انتظامیہ کے متعلق ایک تفصیلی حکمتِ عملی بیان کی ہے جس کا زیادہ تر زور نگرانی اور جاسوسی پر ہے، اور یہ سابق عراقی انٹیلی جنس اہلکاروں کے تجربے سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

حاجی بکر جنوری 2014 میں شمالی شام میں اپنے گروہ کے پھیلاؤ سے پہلے ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام میں پیدا ہونے والے ابو محمد العدنانی دولتِ اسلامیہ کے سرکاری ترجمان ہیں

ایمن التمیمی امریکی تھنک ٹینک مڈل ایسٹ فورم کے فیلو ہیں۔ انھوں نے ابھی تک دولتِ اسلامیہ کے 120 آپریشنل دستاویزات اکٹھے کیے ہیں۔

ان میں سخت سزاؤں سے لے کر بچوں کے لیے ویکسین، مچھلی پکڑنے کے حقوق اور لاریوں کے ڈرائیوروں کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو لفٹ دینے کے احکامات جاری ہیں۔ یہ لیبیا تک کے صوبوں کو جاری کیے گئے ہیں۔

تمیمی کہتے ہیں کہ ان دستاویزات سے بہت کچھ پتہ چلا ہے اس لیے ہم دولتِ اسلامیہ کے متعلق دوسری تنظیموں کے مقابلے پر زیادہ جانتے ہیں۔

جون 2014 کو تنظیمی ڈھانچہ صاف ظاہر ہو گیا جب موصل شہر اور ملک کے شمال اور مغرب پر قبضے کے بعد خلافت کے قیام کا علان کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دولتِ اسلامیہ کے وحشیانہ طریقوں پر پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے

اس کی ایک مثال دولتِ اسلامیہ کا میڈیا آپریشن ہے، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے بڑی سوچ سمجھ اور دوسرے علاقوں کے ساتھ ہم آہنگی سے چلایا جا رہا ہے۔

جب نائجیریا کی تنظیم بوکو حرام نے دولتِ اسلامیہ کے حق میں بیعت کا اعلان کیا تو بہت سی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ مختلف جگہوں سے لوگ سڑکوں پر آ کر اس اعلان کی حمایت کر رہے ہیں۔ حال ہی میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ سایہ چلنے والے ہسپتالوں اور طبی سروسز کے متعلق بھی ویڈیوز جاری کی گئیں۔

اس کی ایک مثال دسمبر 2014 کو گروپ کی جنرل سپروائزری کمیٹی کی طرف سے جاری کیا جانے والا وہ حکم بھی ہے جس کے تحت دولتِ اسلامیہ کے زیرِ انتظام علاقوں میں انتظامیہ کو کہا گیا تھا کہ وہ جی پی ایس کے آلات ایک مہینے کے اندر اندر بند کر دیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو فضائی حملوں سے بچایا جا سکے۔ اور اس کے بعد دولتِ اسلامیہ کے خلاف مہم میں تیزی آنے کے بعد تنظیم نے پوری کوشش کی کہ اپنی کارروائیوں کے متعلق کوئی سراغ نہ چھوڑے اور نہ ہی ان کے متعلق جو یہ کارروائیاں کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دولتِ اسلامیہ کا میڈیا آپریشن بہت جدید ہے اور اسے بہت ہم آہنگی سے چلایا جا رہا ہے

دولتِ اسلامیہ اپنی قیادت کے متلعق بہت کم ہی بولتی ہے اور ابو بکر البغدادی اور تنظیم کے ترجمان ابو محمد العدنانی کے علاوہ دیگر سینیئر اہلکاروں کے متعلق زیادہ معلوم نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس دو نائب رہنما ہیں۔ شام میں ابو علی الانباری اور عراق میں ابو مسلم الترکمانی۔

لیکن گذشتہ ہفتے عراق کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کے سیکنڈ ان کمانڈ جنھیں انھوں نے عبدالرحمان مصطفیٰ محمد یا ابو العارف کا نام دیا، ایک فضائی حملے میں مارے جا چکے ہیں۔

عراقی ذرائع کے مطابق یہ داعش کے وہی سینیئر رہنما تھے جن پر امریکہ نے 70 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا تھا اور انھیں عبدالرحمان القدولی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عراق ذرائع کے مطابق عبدالرحمان القادولی دولتِ اسلامیہ کے سیکنڈ ان کمان تھے

کئی جہادی سوشل میڈیا سائٹوں پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عفاری اور انباری ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔

جو دولتِ اسلامیہ کی ہیت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی صف میں کوئی اختلافِ رائے نہیں ہے، جس سے اس بات کا امکان کم ہو جاتا ہے کہ کوئی انٹرنیٹ ہر کوئی ایسی بات یا انٹیلی جنس کی معلومات ظاہر کر دے جس سے اس تنظیم کے متعلق کچھ پتہ چلے۔

اس کے علاوہ فرضی ناموں اور عرفیت کا عام استعمال ہے۔ امریکہ نے صرف قادولی کے ہی 12 ناموں کی فہرست بنائی ہوئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی جو ماضی میں شخصیات سامنے آئی ہیں ان میں الہیات یا مذہب کے ماہر ترکی البنالی، فوجی کمانڈر عمر شیشانی اور شاکر واہب الفہداوی شام ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترخان باتراشولی جو عمر شیشانی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ کے جنگی کمانڈر ہیں

تمیمی کہتے ہیں کہ ’عمومی مسئلہ یہ ہے کہ یہ پتہ نہیں کہ کون درمیانی اور کون سینیئر سطح پر فائز ہے۔ ان لوگوں کو بنایا ہی اس طرح گیا ہے کہ ان کو تبدیل کیا جا سکے۔‘

سنیچر کو امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ابو سیاف کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ شاید ہی کسی نے اس سے پہلے ان کے متعلق کچھ سنا ہو۔

امریکی اہلکاروں نے بات میں بتایا کہ ان کا حقیقی نام فتحی بن عون بن جلدی مراد التیونسی تھا، اگرچہ اس کے علاوہ بھی ان کے کئی نام تھے۔

ابو سیاف کی بیوی جن کا نام امِ سیاف بتایا جاتا ہے، اب عراق میں ہیں جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ان کے ساتھ حملے میں حاصل ہونا والا بہت زیادہ الیکٹرانک ڈیٹا بھی لایا گیا ہے۔

انٹیلی جنس اہلکار امید کر رہے ہیں کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے فیصلہ سازی کے ڈھانچے اور سینیئر رہنماؤں کے متعلق کچھ روشنی ڈال سکیں گی۔

اسی بارے میں