’ قیدیوں نے تسلیم کیا ہے کہ وہ روسی افواج کا حصہ ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیر کو روس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا تھا کہ حراست میں لیے گئے دونوں افراد روسی افواج کے سابق رکن تھے

یوکرین کے تنازعے کے حل کے لیے یورپی مصالحت کاروں کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی فوج کی حراست میں موجود دو افراد نے تسلیم کیا ہے کہ وہ روس کی فوج میں شامل رہے ہیں۔

یوکرینی فوج ان دونوں افراد کو گذشتہ ہفتے حراست میں لیا تھا۔ جس کے بعد یورپ میں تحفظ اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے اراکین نے دارالحکومت کیئف کے فوجی ہسپتال میں اُن کا انٹرویو کیا۔

تنظیم کے مطابق ’وہ مسلح تھے لیکن انھیں حملے کرنے کے احکامات نہیں تھے۔‘

روس نے ان الزامات پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس سے پہلے روس نے کہا تھا کہ حراست میں لیے گئے دونوں افراد اب روسی فوج کا حصہ نہیں ہیں۔

او ایس سی ای کے مطابق یہ افراد یوکرین میں ’فوجی دیکھ بھال کے مشن‘ پر تھے۔

حراست کے دوران ایک شخص نے بتایا کہ انھیں اپنے یونٹ سے یوکرین جانے کے احکامات ملے اور کہا گیا کہ ’تین مہینے بعد انھیں واپس بلا لیا جائے گا۔‘ دوسرے شخص کا اصرار تھا کہ وہ روسی فوج کے اُن دستوں میں شامل نہیں ہیں جو یوکرین میں لڑ رہی ہیں۔

یوکرینی حکومت، مغربی رہنماؤں اور نیٹو کا کہنا ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ روس باغیوں کو اسلحہ اور امداد فراہم کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اُس کا کہنا ہے کہ روس باغیوں کے ساتھ ’رضاکار‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔

یوکرینی افواج نے ان دونوں افراد کو روس کی سرحد سے 30 کلومیٹر دور زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا اور ان پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پیر کو روس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا تھا کہ حراست میں لیے گئے دونوں افراد روسی افواج کے سابق رکن تھے۔ یوکرین میں باغی اور حکومتی افواج کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ رواں سال فروری میں ہوا تھا لیکن آئے دن معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

جمعرات کو باغیوں کے ایک تازہ حملے میں ایک فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔

او ایس سی ای کے یوکرین میں نائب سربراہ الیگزینڈر ہیگ نے خبردار کیا ہے کہ ’اس تنازعے کا جغرافیائی تناظر بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’مشن نے اسلحے کی موجودگی اور نقل وحمل کو محسوس کیا ہے۔‘

اپریل 2014 سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک 6000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں