سمندر میں پھنسے تارکینِ وطن کو بچانا ’پہلی ترجیح‘ : بان کی مون

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پناہ گزینوں کے مسئلے پر تھائی لینڈ میں 29 مئی کو 15 ممالک کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو غربت اور ایذارسائیوں کے باعث ترکِ وطن کرنے پناہ گزینوں کو بچانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

سنیچر کو ویتنام کے شہر ہنوئی میں بان کی مون کا کہنا ہے کہ سمندر میں پھنسے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن کو بچانا پہلی ترجیح ہونا چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ علاقائی حکومتوں کو اس انسانی بحران کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے باعث یہ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی مطابق بان کی مون کا کہنا انھوں نے حال ہی میں تھائی لینڈ، ملائشیا اور میانمر میں علاقائی رہنماؤں سے تبادلہ خیال کیا ہے اور اس ان سے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ان بنیادی مسائل کے حل کی جانب توجہ دیں جس کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔‘

بان کی مون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میانمر پر 13 لاکھ آبادی پر مشتمل روہنجیا مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کے باعث بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انھوں نے کہا کہ انسانی زندگیوں کو بچانا اہم ہے لیکن انھیں دوبارہ ان خطرناک حالات میں واپس نہ بھیجنا بھی اہمیت کا حامل ہے۔

Image caption سمندر میں پھنسے تارکین وطن کی تلاش اور انھیں بچانے کے ساتھ ساتھ ان کی دوبارہ آبادکای کی جائے: بان کی مون

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جنوب مشرقی ایشائی ممالک کو ان مسائل کے حل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ دیشی اور میانمار سے روہنجیا برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے سمندری راستہ اختیار کیا۔

بان کی مون کا کہنا تھا کہ وہ میانمر، ملائشیا اور تھائی لینڈ میں علاقائی رہنمائی سے ہنگامی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سمندر میں پھنسے تارکین وطن کی تلاش اور انھیں بچانے کے ساتھ ساتھ ان کی دوبارہ آبادکای کی جائے۔

واضح رہے کہ پناہ گزینوں کے مسئلے پر تھائی لینڈ میں 29 مئی کو 15 ممالک کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے تاہم میانمار کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر ژو ہتائے کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا اگر دعوت نامے میں ’روہنجیا‘ کا استعمال کیا گیا کیونکہ ان کا ملک روہنجیا کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

اسی بارے میں