65 سالہ خاتون کے ہاں چار بچوں کی پیدائش

Image caption انھوں نے ایک اور بچے کو جنم دینے کا فیصلہ تب کیا جب ان کی دس سالہ بیٹی نے چھوٹے بھائی یا بہن کی خواہش کا اظہار کیا تھا

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک 65 سالہ خاتون نے مصنوعی تخم ریزی کے طریقہ کار کے استعمال کے بعد ایک ساتھ چار بچوں کو جنم دیا ہے۔

منگل کو برلن ہسپتال کے عملِ جراحی سیکشن کے مطابق آنگریٹ راؤنک کے ہاں تین لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی ہے۔

ان کے مطابق ’یہ بچے قبل از وقت پیدا ہوئے ہیں لیکن ان کے بچ جانے کے کافی امکانات ہیں۔‘

آنگریٹ راؤنک ایک ساتھ چار بچوں کو جنم دینے والی دنیا کی سب سے عمر رسیدہ خاتون بن گئی ہیں۔ اس قبل ان کے13 بچے اور سات پوتے بھی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انھوں نے ایک اور بچے کو جنم دینے کا فیصلہ تب کیا جب ان کی دس سالہ بیٹی نے چھوٹے بھائی یا بہن کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

برلن میں بی بی سی کے نامہ گار جینی ہل کا کہنا ہے کہ راؤنک کا حاملہ ہونا یوکرین میں کروائے گئے تولید کے علاج کا نتیجہ ہے۔ جو کہ جرمنی میں ایک شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

اپنے حمل کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ان کا ماننا ہے ہر کسی کو ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں کوئی خدشات ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ فرض کر رہی ہیں کہ وہ صحت مند رہیں گی اور وہ اس بات سے بلکل پریشان نہیں ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔

تاہم جرمن سکول ٹیچر بچے کو جنم دینے والی سب سے عمر رسیدہ خاتون نہیں ہیں۔ ماریا ڈیل کارمن بوساڈا لارا جنھوں نے سرکاری ریکارڈ کے مطابق سنہ 2006 میں سپین میں 66 سال کی عمر میں جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔

بعض اطلاعات کے مطابق اصل ریکارڈ بنانے والی بھارتی خاتون اوم کاری پنور ہیں جنھوں نے سنہ 2008 میں 70 سال کی عمر میں جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔

اسی بارے میں