رمادی کا قبضہ واپس لینے کے لیے فوجی آپریشن کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت لڑائی رمادی کے مشرق میں واقع شہرحصیبہ جاری ہے

عراق میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شیعہ ملیشیا نے دولتِ اسلامیہ سے صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کا قبضہ واپس لینے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت لڑائی رمادی کے مشرق میں واقع شہرحصیبہ جاری ہے۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ ویڈیو رپورٹ

ہم دولتِ اسلامیہ کو کتنا جانتے ہیں؟

رمادی سے نقل مکانی کرنے والوں کو بغداد آنے سے روک دیا گیا

گذشتہ اتوار کو دولت اسلامیہ نے رمادی پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد عراقی وزیراعظم نے شہر کو واپس لینے کے لیے شیعہ ملیشیا کو مدد کے لیے بلایا تھا۔

پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ رمادی سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حصیبہ شہر کو آزاد کرانے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر دیاگیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حصیبہ کے فوجی اڈے سے سکیورٹی اہلکاروں کو روانہ ہوتے دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ شیعہ ملیشیا کے تین ہزار اہلکار بھی شہر میں موجود ہیں اور رمادی شہر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراقی فوج کو شیعہ ملیشیا کی مدد بھی حاصل ہے

دوسری جانب عراقی حکام نے اس اہم پل کو بند کر دیا ہے جس کے ذریعے لوگ رمادي شہر سے نقل مکانی کرکے دارالحکومت بغداد میں داخل ہو رہے ہیں۔

رمادي پر دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کا قبضہ ہونے کے بعد تقریباً 40 ہزار سے زیادہ لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے نائب کوارڈینیٹر نے رمادی چھوڑنے والے ان افراد کی پریشانیوں اور مشکلات کا ذکر کیا ہے۔

نائب کوارڈینیٹر ڈومینک بارش نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بے گھر ہونے والے افراد میں خواتین، بوڑھے اور بیمار بھی شامل ہیں جنھیں بغداد میں داخل ہونے والے پل کے قریب روک دیا گیا ہے۔‘

انھوں بتایا ہے کہ پل کے قریب پانی کی کمی کے سبب کئی بچوں کی ہلاکت بھی خبریں ہیں۔

ڈومینک ڈومینک نے بتایا کہ جو لوگ ابھی بھی رمادی میں ہیں ان کے بارے بہت کم معلومات ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ہمیں انتقامی کاروائیوں، گولی مارنے اور شہر میں جو شہری بچ گئے ہیں ان کے خلاف ظلم و ستم کی خبریں مل رہی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی حکام نے اس اہم پل کو بند کر دیا ہے جس کے ذریعے لوگ رمادي شہر سے نقل مکانی کرکے دارالحکومت بغداد میں داخل ہو رہے ہیں

جمعے کو عراق کے نائب وزیر اعظم صالح المطلق نے متنبہ کیا کہ دولت اسلامیہ سے ’جنگ اب مقامی بات نہیں رہ گئي ہے‘ اور بین الاقوامی برادری سے اس ضمن میں عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

شام پر انسانی حقوق کی آبزرویٹری نے کہا ہے کہ اپنے حالیہ حملے میں دولت اسلامیہ نے عراق سے ملحق شام کی حکومت کے زیرانتظام آخری شہر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ شام میں پیلمائرا اور عراق میں رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے شدت پسند تنظیم کے خلاف جاری مہم کو دھچکا پہنچا ہے تاہم صدر اوباما نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یہ جنگ ہار رہا ہے۔

رمادی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں شہر پر اپنا قبضہ مضبوط کر رہے ہیں اور انھوں نے نہ صرف دفاعی مورچے قائم کیے ہیں بلکہ شہر میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں۔

اسی بارے میں