ہم جنس شادیاں، آئرلینڈ میں ریفرنڈم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لوگوں کی اکثریت نے ہم جنس کی شادیوں کے حق میں ووٹ دیا

رپبلک آف آئرلینڈ عوام کی بھاری اکثریت نے ہم جنس شادیوں کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔

ملک میں ہونے والے ایک ریفرنڈم میں باسٹھ فیصد لوگوں نے ملک کے آئین میں ترمیم کرکے ’گے‘ اور ’لیسبین‘ جوڑوں کو شادی کرنے کی اجازت دینے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

دنیا میں آئر لینڈ پہلا ملک ہے جس نے ریفرنڈم کے ذریعے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

آئر لینڈ کے وزیر اعظم اینڈا کینی نے کہا ہے ان کا ملک چھوٹا سا ہے لیکن اس نے دنیا کو ایک بڑا پیغام دیا ہے۔

ہم جنسی شادیوں پر ریفرنڈم میں ملک میں ہم جنسیت کو ایک جرم کے ضمرے سے نکالنے کے بائیس سال بعد ہوا ہے۔

دنیا کے بائیس ملکوں میں اب ہم جنس کی شادیوں کی اجازت ہے۔

بی بی سی کے آئر لینڈ کے نامہ نگار کرس بکلر کا کہنا ہے کہ ڈبلن کے قعلے کے باہر جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ریفرنڈم کے نتائج سننے کے لیے جمع ہوئی تھی میلے کا سماں تھا۔

اس ریفرنڈم میں ساٹھ فیصد لوگوں نے شرکت کی اور ووٹ کی گنتی شروع ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد معلوم ہو گیا تھا کہ ہم جنس شادیوں کے مخالفیں کو شکست ہو گئی ہے۔

آئرلینڈ کے تحریری آئین میں ریفرنڈم کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی۔ اس ترمیم کے بعد اب ایک ہی جنس کے دو افراد میں شادی کو وہی قانونی حیثیت حاصل ہو گی جو ایک مرد اور عورت کی شادی کو حاصل ہے۔

اسی بارے میں