جوہری مذاکرات ’اسرائیل کے تنازعے‘ پر ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس تجویز کو امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے روک دیا تھا۔ جس کے بعد اس پر 2020 میں نظرِثانی کی جائے گی

جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی ’مشرق وسطی کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ قرار دینے‘ کی تجویز پر ہونے والی عالمی کانفرنس ناکامی پر ختم ہو گئی ہے۔

مصر کے حمایت یافتہ منصوبے کے پیچھے ایک علاقائی فورم کا قیام تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد اسرائیل کو مجبور کرنا تھا کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا نہیں۔

اس تجویز کو امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے روک دیا تھا۔ جس کے بعد اس پر 2020 میں نظرِثانی کی جائے گی۔ دوسری جانب اسرائیل جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کی نہ تصدیق کر رہا ہے اور نہ ہی مسترد کر رہا ہے۔

امریکہ کی معاون وزیرِ خارجہ گوٹی موئلر نے چار ہفتوں کے مذاکرات کے بعد بات کرتے ہوئے مصر اور دوسرے عرب ممالک پر ’ان غیر حقیقی اور ناقابل عمل شرائط‘ کو مستقبل میں بات چیت کے لیے نہ چھوڑنے کے الزامات لگائے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کہ بعض شرکا نے اس سارے عمل کو بڑی ’بدخوئی سے خراب‘ کرنے کی کوشش کی ہے۔

خبر رساں ادراے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق مصر نے معاہدے کےطے نہ پانے پر متنبہ کیا ہے کہ ’اس کے عرب دنیا اور عوامی سطح پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

گزشتہ ماہ مصر نے اسرائیلی شرکا سمیت یا ان کے بغیر، اور بنا کسی متفقہ ایجنڈے کے ایک علاقائی کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز دی تھی۔

کچھ تجزیہ کاروں کو کہنا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہو سکتا ہے۔ جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور تاکہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کانفرنس ہر پانچ سال بعد ہوتی ہے اور ان مذاکرات کے ناکام ہونے کا مطلب ہے کہ اب ان پر بات چیت دوبارہ 2020 میں ہوں گے۔

اسی بارے میں