تارکینِ وطن کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں؟

پناہ گزین
Image caption روہنجیا مسلمانوں اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں سے ہمدردی کا سبھی کہہ رہے ہیں لیکن مدد کے لیے تیار کوئی کوئی ہے

ریسرچ اور ریسکیو آپریشن کے شروع ہونے کے بعد ملائیشیا اور انڈونیشیا کو جلد ہی تارکینِ وطن کے بحران کا سامنا ہو گا۔

تقریباً 7,000 تارکینِ وطن جن میں روہنجیا اور بنگلہ دیشی مسلمان شامل ہیں، انڈمان کے سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تک اس علاقے کی حکومتیں ان کو اپنے ساحلوں پر لانے پر رضا مند نہیں تھیں، اور انھیں یہ ڈر تھا کہ ان کی دیکھا دیکھی بعد میں مزید پناہ گزین آ جائیں گے۔

بین الاقوامی دباؤ کے بعد ملائیشیا اور انڈونیشیا نے انھیں عارضی پناہ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک نے پناہ گزینوں کو دوبارہ آباد کرنے میں مدد کا بھی وعدہ کیا ہے۔

لیکن کس طرح عام آدمی ان علاقوں میں روہنجیا کے مسئلے کو دیکھتا ہے؟ بی بی سی کے نامہ نگاروں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے۔

ملائیشیا: ’روہنجیا پر ستم ختم ہونا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملیشیا پہلے ہی 45,000 روہنجیا کو پناہ دیے ہوئے ہے

سمندر میں پھنسے ہوئے تارکینِ وطن کا حال دیکھ کر ملائیشیا میں اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ان کو عارضی طور پر پناہ دینے کا فیصلہ درست ہے۔

ایک مقامی اخبار دی ملائیشیا سٹار لکھتا ہے کہ ’ہم نے بوسنیا اور ویتنام سے پناہ گزین قبول کیے ہیں، تو پھر روہنجیا کیوں نہیں۔‘

لیکن ان خدشات کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ اس سے ہجرت کر کے یہاں آنے والوں کا تانتا بندھ جائے گا۔

ملائیشیا پہلے میانمار سے بھاگنے والے روہنجیا مسلمانوں کی پسندیدہ جگہ ہے کیونکہ یہ بھی ایک مسلمان اکثریت والا ملک ہے۔ اس میں گذشتہ کئی برسوں میں تقریباً 45,000 روہنجیا پناہ لے چکے ہیں۔

ٹوئٹر پر کچھ لوگوں نے مایوسی ظاہر کی ہے کہ ان کے وزیر نے میانمار سے یہ نہیں کہا کہ وہ اقلیتی گروہ پر ستم بند کرے۔

ماریکو اوئی، بی بی سی نیوز کوالالمپور

آسٹریلیا: ’ہم تارکینِ وطن کو نہیں بسائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیپشن: مختلف گروہ وزیرِ اعظم ٹونی ایلبٹ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تارکینِ وطن کو پناہ دی جائے

آسٹریلیا کے اخبارات اور ٹی وی بلیٹنز میں کشتیوں پر سوار لاغر اور مایوس روہنجیا کی پریشان کن تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔

لیکن ان کا اثر وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ پر نہیں ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کسی بھی بھاگنے والے کو یہاں آباد نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو مزید لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

2013 میں انتخابات میں جیت کے بعد ایبٹ حکومت نیوی کی مدد سے آسٹریلیا کے پانیوں میں آنے والے پناہ کے متلاشیوں کی کشیوں کو واپس بھیج رہی ہے یا محفوظ مقامات پر پہنچا رہی ہے۔

تاہم وزیرِ اعظم پر تنقید کرنے والے انھیں سنگدل کہتے ہیں۔

رفیوجی ایکشن ان میلبرن کے کرس برین کہتے ہیں ’علاقے میں سب سے زیادہ امیر ملک ہونے کی وجہ سے آسٹریلیا کو چاہیے کہ وہ روہنجیا پناہ گزینوں کو آسٹریلیا میں مستقل بنیادوں پر بسانے میں ملائیشیا اور انڈونیشیا کی مدد کرے۔ یہ وقت ہے فوری انسانی امداد کا، بے رحمی کا نہیں۔‘

فل مرسر، بی بی سی نیوز، سڈنی

انڈونیشیا: ’ہمیں مدد کرنی چاہیے لیکن بعد میں روہنجیا کو گھر جانا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیپشن: آچے کے رہائشی وہاں پہنچنے والے پناہ گزینوں کو خوارک اور پناہ دے رہے ہیں

تارکینِ وطن کی مدد میں مذہب ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، خصوصاً میانمار سے آنے والے روہنجیا مسلمانوں کے لیے۔

انڈونیشیا میں مسلمان روہنجیا مسلمانوں سے یکجہتی دکھا رہے ہیں، جن کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور بدھ مت میانمار میں اکثریت کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہو کر یہاں آئے ہیں۔

اس حوالے سے کئی انڈونیشیائی باشندے اپنی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ آچے کے صوبے میں تارکینِ وطن کو بسائے۔

تاہم اس رائے میں بھی اضافہ ہوا ہے کہ حکومت میانمار کو کہے کہ وہ تارکینِ وطن کو واپس لے۔

ان کا ماننا ہے کہ انڈونیشیا کو جہاں پہلے ہی لاکھوں غریب اور غیر تعلیم یافتہ ہیں، اندرونی مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اپنے لوگوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔

جیروم ویراوان، بی بی سی نیوز انڈونیشیائی سروس

بنگلہ دیش: ’بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ مدد کرے‘

Image caption بنگلہ دیش نے بین الاقوامی برادری سے میانمار میں اقلیت کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

غربت اور بے روزگاری سے مجبور ہو کر بنگلہ دیشی غیر قانونی راستے سے ملائیشیا میں داخل ہونے کا خطرہ مول لیتے ہیں، جو کوکس بازار سے شروع ہوتا ہے جسے ’گیٹ وے ٹو ملائیشیا‘ بھی کہا جاتا ہے۔

2012 میں بنگلہ دیش اور ملائیشیا نے ایک یاد داشت پر دستخط کیے تھے جس میں ورکرز کی قانونی طور پر ہجرت کی اجازت دی گئی تھی۔

اس کے بعد تقریباً 1.5 ملین بنگلہ دیشیوں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی لیکن اس وقت سے اب تک اس سلسلے میں کچھ زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اور اس طرح لوگ سمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔

اخبارات اور سوشل میڈیا میں روہنجیا کے لیے بھی ہمدردی ہے جو اسی طرح کا سفر اختیار کر رہے ہیں۔

انھوں نے بین الاقوامی برادری سے میانمار میں اقلیت کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

کسی کو یہ نہیں معلوم کہ میانمار سے آنے والے کتنے روہنجیا بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ وہ چار سے پانچ لاکھ پناہ گزینوں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔

حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنگلہ دیش دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آبادی والے ممالک میں سے ایک ہے، جس میں 160 ملین لوگ بستے ہیں۔

سب کو اس چیز کا علم ہے کہ حکومت تو اپنے شہریوں کے لیے ملامتیں پیدا نہیں کر سکتی تو وہ بے یارومددگار روہنجیا کی دیکھ بھال کس طرح کرے گی؟

اکبر حسین، بی بی سی بنگالی سروس، کوکس بازار

میانمار: ’روہنجیا مسلمانوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نسلی روہنجیا مسلمانوں کو میانمار میں شہریت نہیں دی جاتی

میانمار میں سب سے زیادہ اونچی آوازیں روہنجیا مخالف ہیں۔ ہائی پروفائل راہب اور سینیئر سیاستدان ان لوگوں کے لیے بہت کم ہمدردی رکھتے ہیں جو ان کے خیال میں ہمسائہ ملک بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن ہیں۔

جن صحافیوں نے روہنجیا کی کہانی پر کچھ لکھا ہے ان کو سوشل میڈیا پر برا بھلا کہا جاتا ہے۔

کئی مرتبہ تو لوگ سمجھتے ہیں کہ انسانی سمگلنگ ہی روہنجیا کے مسئلے کا حل ہے۔

اس سے برما کے لوگوں کی رائے کا کتنا پتہ چلتا ہے یہ کہنا ذرا مشکل ہے۔ کچھ اعتدال پسند آوازوں نے ہمدردی کی بات کی اور یقیناً اس ملک کی اکثریت کی انٹرنیٹ اور میڈیا تک رسائی نہیں ہے۔

اس طرح کی بھی آوازیں سننے کو ملتی ہیں کہ حزبِ اختلاف کی رہنما آنگ سان سو چی اس بارے میں کیوں نہیں بولتیں۔ لیکن یہ بھی زیادہ تر ملک کے باہر سے آنے والی آوازیں ہیں۔

توقع کے مطابق وہ مسئلے میں ابھی ہاتھ ڈالنا نہیں چاہتیں۔ یہاں نومبر میں انتخابات ہیں اور استصواب سے محروم اقلیت کے حق میں بات کرنے سے کوئی زیادہ ووٹ نہیں ملیں گے۔

جان فشر، بی بی سی نیوز، یگون

اسی بارے میں