کیا دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی مہم ’ناکام‘ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شامی فوجوں کو اہم مقامات سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے

دولتِ اسلامیہ کے جہادی جنگجوؤں کے شام اور عراق میں شہر، ہوائی اڈے، جیل اور سرحدی چوکیاں قبضے میں کرنے کے بعد بھی امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی برتری کوئی اتحادیوں کی ’حربی پسپائی‘ نہیں ہے۔

انھوں نے اصرار کیا کہ امریکی سربراہی میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف اتحاد جہادیوں سے نہیں ہار رہا۔ لیکن ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ اتحاد یقیناً جیت بھی نہیں رہا۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ ویڈیو رپورٹ

ہر دن جب دولتِ اسلامیہ زمین پر موجود ہے، ہر دن جب وہ اپنے سخت قانون کو سہمی ہوئی عوام پر لاگو کرتی ہے، ہر دن جب وہ مورچہ بند ہونے کے قریب ہوتی ہے، چاہے وہ کوئی بری یا ناپسندیدہ ریاست میں ہی ہو، تو یہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور مسلح افواج کی ناکامی ہی ہے۔

لندن میں انتہا پسندی کے خلاف تھنک ٹینک قویلیم کے تجزیہ کار چارلی ونٹر کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں اتحاد کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف حکمتِ عملی نہ ہونے کے برابر ہے۔‘

’شروع ہی سے یہ دولتِ اسلامیہ کی پوزیشنوں پر بم گرانے، چند رہنماؤں کو مارنے کی امید کرنے اور چند آرٹلری کی پوزیشنوں کو تباہ کرنے جیسی باتوں تک محدود رہی ہے۔‘

’لیکن اس کے علاوہ یہ بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ رمادی پر قبضہ کیا جا چکا ہے، پالمیرا پر قبضہ ہو چکا ہے، دیر الزور کا ہوائی اڈہ ہاتھ سے جانے والا ہے۔‘

لیکن اگر دیکھا جائے تو اتحادی افواج کی حکمتِ عملی بھی بالکل ناکام نہیں ہے۔

گذشتہ 11 ہفتوں میں اس کو کچھ کامیابی بھی ملی ہے، جن میں کرد شہر کوبانی اور اربیل کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے بچانا بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صرف کرد جگجوؤں نے دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے

جہادیوں نے کوبانی میں جنگجوؤں کی صفوں کی صفیں بھیجیں لیکن اتحادی فضائی حملے اور کرد جنگجوؤں کے باہمت دفاع کی وجہ سے ان کو مجبوراً پسپا ہونا پڑا۔

ہوائی حملوں کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو موصل اور حدیثہ کے ڈیموں کو بھی چھوڑنا پڑا جہاں یہ خطرہ تھا کہ وہ ڈیموں کو اڑا کر زبردست سیلاب لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکہ کی سربراہی میں شروع کیے جانے والے ریسکیو پروگرام کی وجہ سے عراق کے شمال میں ہزاروں کرد اور یزیدی بےگھر خاندانوں کو موت اور بھوک سے بچایا گیا۔ ان کے دیہات پر دولتِ اسلامیہ نے قبضہ کر لیا تھا۔

اس کے علاوہ چند کامیاب فضائی حملے بھی کیے گئے ہیں جن میں دولتِ اسلامیہ کے آپریشنل کمانڈر ہلاک ہوئے ہیں، اور حال ہی میں شام میں امریکی ڈیلٹا فورس کا وہ کامیاب حملہ بھی ہے جس میں دولتِ اسلامیہ کے تیل کی آمدنی کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کی موت واقع ہوئی۔

لیکن دولتِ اسلامیہ کے لیے یہ قابلِ برداشت نقصانات ہیں، جوکہ تنگ ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہیں۔ زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ میں ان کی پیش قدمی جاری ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے لیے جو سب سے بڑا نقصان ہوا ہے وہ بھی اتحادی حکمتِ عملی کے نتیجے میں نہیں ہوا، وہ عراق اور ایران کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے عراق کا سنی علاقہ تکریت چھڑانے کا زیادہ تر سہرا شیعہ عراقی ملیشیا کے سر جاتا ہے جسے ایران نے تربیت دی ہے۔

کاغذوں پر دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی سربراہی والے اتحاد کے بڑے ممالک کی فہرست بڑی شاندار لگتی ہے جو اس بوتل سے نکلنے والے جن کو دوبارہ بوتل میں بند کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی سربراہی والا اتحاد دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کے خلاف شام اور عراق میں فضائی حملے کر رہا ہے

لیکن ان کے مفادات ایک جیسے نہیں ہیں۔

سعودی تجزیہ کار اور دولتِ اسلامیہ پر ماہر ایمن دین کہتے ہیں کہ ’ مسئلہ دولتِ اسلامیہ کے مخالفین کے مختلف مفادات اور حکمتِ عملیوں کا ہے۔‘

امریکہ، یورپی اتحاد، جی سی سی، ترکی اور ایرانی محور (جس میں ایران، اسد، بغداد اور حزب اللہ شامل ہے) اور شام کا حزبِ اختلاف دولتِ اسلامیہ کے خلاف ایک غیر مشروط جنگ لڑ رہا ہے۔‘

خلیج میں اتحاد کے آپریشن روم سے نشانوں اور ٹھکانوں کی نشاندہی ہوتی ہے، مشن بھیجے جاتے ہیں اور یورپی یا عرب ممالک کے جنگی جہاز ان فضائی حملوں میں حصہ لیتے ہیں جن میں ٹارگٹ کو بہت احتیاط سے چنا جاتا ہے۔

لیکن بس فضا سے اتنا کچھ ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے سیکھ لیا ہے کس طرح اپنی فوجوں اور آلات کو حملوں سے بچایا جائے اور اس لیے وہ جہاں تک ممکن ہو سکے آبادی والے علاقوں میں عام شہریوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ آخر کار اس مہم کو فیصلے کے لیے زمین پر لے جانا ہی پڑے گا اور اس کے لیے کوئی قابلِ قبول عالمی فوج نہیں ہے جو یہ چیلنج لے سکے۔

امریکی فوج جو عراق پر آٹھ سالہ قبضے میں اپنے 4,491 فوجی کھو چکی ہے، دوبارہ لڑائی میں حصلہ لینے میں ہچکچا رہی ہے۔

اس کے عراق میں تقریباً 2,000 مشیر، منصوبہ ساز اور دیگر افراد موجود ہیں لیکن عراقی فوج کو تیار کرنے کی اس کی کوششیں ابھی رنگ نہیں لائیں۔

مئی 2015 تک اگر کسی گروہ نے میدانِ جنگ میں دولتِ اسلامیہ کا سامنا کیا ہے تو وہ ایران کے حمایت یافتہ شیعہ جنگجو ہیں۔ جن میں لبنان سے بھیجے گئے حزب اللہ کے یونٹ اور عراقی شیعہ ہیں جن کو ایران کے پاسدارانِ ایران کے مشیروں نے تیار کیا ہے۔

دونوں ہی سنی علاقوں میں مقبول نہیں ہیں۔

اسی بارے میں