امریکہ میں پولیس افسر کو قتل کیس میں بری کرنے پر ہنگامے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ میں صرف سنہ 2014 میں نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے 1149 افراد پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوئے

امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں ایک پولیس افسر کو سیاہ فم جوڑے کے قتل کیس میں بری کرنے پر ہنگامے پھوٹ پڑنے کے بعد پولیس نے 12 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کی جانب سے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کے باوجود سنیچر کی رات بھی شہر میں بدامنی رہی۔

سیاہ فام ہی کیوں پولیس کے نشانے پر؟

مائیکل بارلو نامی افسر پر سنہ 2012 میں اس جوڑے کی کار پر فائرنگ کر کے ان کو غیر ارادی طور پر قتل کرنے کا الزام تھا لیکن عدالت نے انھیں اس الزام سے بری کر دیا ہے۔

واضع رہے کہ حالیہ سالوں میں امریکی پولیس کی جانب سے غیر مسلح سیاہ فام شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے ملک کی سیاہ فام آبادی میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکی پولیس کے ہاتھوں کئی غیر مسلح سیاہ فام باشندوں کی ہلاکتوں سے مختلف امریکی شہروں میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور مظاہرے کیے گئے۔ ان میں سے کچھ کے بقول پولیس کے ہاتھوں مائیکل براؤن، ایرک گارنر، والٹر سکاٹ اور فریڈی گرے کی ہلاکت نسل پرستی اور بے جا طاقت کے استعمال کی مثالیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مرنے والے دونوں سیاہ فام جوڑے کو 20 سے زیادہ گولیاں لگی تھیں

مائیکل بارلو ان 13 پولیس افسران میں شامل تھے جنھوں نے جوڑے کی کار پر فائرنگ کی تھی لیکن مقدمہ صرف ان پر اس لیے قائم کیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے کار کے بونٹ پر چڑھ کر براہ راست شیشے سے کار کے اندر فائرنگ کی تھی۔

یاد رہے کہ پولیس نے جوڑے کی کار کا تعاقب اس وقت شروع کیا تھا جب وہ تیز رفتاری سے کلیولینڈ پولیس ہیڈ کوارٹر کے پاس سے گزرے تھے اور ان کی گاڑی سے ’گولی‘ چلانے کی آواز آئی تھی ، لیکن درحقیقت وہ آواز گاڑی کے سیلنسر کے خراب ہونے کی وجہ پیدا ہوئی تھی۔

سنیچر کو کلیولینڈ کی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس افسران نے جوڑے کی گاڑی پر 137 گولیاں چلائی تھیں اس لیے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مائیکل بارلو کی جانب سے چلائی جانے والی گولیاں ہی مقتولین کی موت کی وجہ بنی۔

واقعے میں مرنے والے دونوں سیاہ فام جوڑے کو 20 سے زائد گولیاں لگی تھیں اور ان کی گاڑی سے کسی قسم کا اسلحہ بھی برآمد نہیں ہوا تھا۔

امریکہ میں صرف سنہ 2014 میں نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے 1149 افراد پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں