آسٹریلوی شخص کو سیاح کا ریپ کرنے پر 17 سال قید

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption سیاح خاتون کو میلبرن شہر کے ریجس بیل سٹی ہوٹل میں ریپ اور ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا

نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک سیاح لڑکی کو، جو آسٹریلیا میں بیک پیک کر رہی تھی، چھ ہفتے ایک ہوٹل میں بند کر کے بار بار ریپ کرنے اور اس پر تشدد کرنے کے الزام میں ایک آسٹریلوی شخص کو 17 سال قید سنائی گئی ہے۔

آلفیو اینتھنی گراناٹا نے متعدد ریپ، قتل کی دھمکیوں اور جان بوجھ کر شدید زخم پہنچانے کے الزامات قبول کر لیے ہیں۔

سنہ 2012 میں منشیات اور جنسی تعلقات کے بعد، جن میں آلفیو گراناٹا کی پارٹنر جینیفر پیسٹن بھی شامل تھیں، گراناٹا نے سیاح کو میلبرن شہر میں واقع ایک ہوٹل میں بند رکھا۔

جب سیاح نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تو گراناٹا اور اس کی پارٹنر ہنگامی خدمات سے رابطہ کرنے پر مجبور ہوئے۔ یوں سیاح رہا ہوئیں۔

پیر کے روز جج نے گراناٹا کے جرائم ’تشدد کے مترادف‘ قرار دیے اور کہا کہ انھوں نے ایک 21 سالہ خاتون، جس کا نام نہیں دیا گیا، کو ’توہین اور ذلت‘ کا ہدف بنایا۔

آلفیو گراناٹا اور جینیفر پیسٹن کی ملاقات سیاح سے 2012 میں ہوئی تھی جس کے بعد انھوں نے سیاح کو اپنے ہوٹل کے کمرے میں بلایا۔

سیاح کو شاور میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔ پیسٹن کی مدد سے فراناٹی نے لڑکی کو بیلن سمیت مختلف اشیا سے مارا پیٹا اور اسے عجیب و غریب رسومات کا نشانہ بنایا۔

جج کا کہنا ہے کہ اس سب کے بعد سیاح خاتون ’خوفزدہ اور تنہائی پسند‘ ہو کر رہ گئی ہیں۔

اس سال کے شروع میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پیسٹن خود بھی گراناٹا کے ہاتھوں بدسلوکی کا شکار رہی تھی۔

اسی بارے میں