’عراقی فوج دولت اسلامیہ کی چونکا دینے والی حکمت عملی سے پریشان‘

Image caption ’مسٹر کارٹر عراق کے بڑے حامی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان کو غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں‘

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ عراقی فوج دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے رمادی ’چند دنوں‘ میں واپس لے سکتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے عراق کو بین الاقوامی اتحادیوں کی مزید مدد کی ضرورت ہے۔

واضع رہے کہ گذشتہ اتوار کو دولت اسلامیہ نے رمادی پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد عراقی وزیراعظم نے شہر کو واپس لینے کے لیے شیعہ ملیشیا کو مدد کے لیے بلایا تھا۔

’عراقی فوج میں دولتِ اسلامیہ سے جنگ میں عزم کی کمی‘

امریکہ کے وزیرِدفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی میں عراق افواج کی شکست ظاہر کرتی ہے کہ ان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے عزم کی کمی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عراقی فوجی تعداد میں دولتِ اسلامیہ سے کہیں زیادہ تھے لیکن انھوں نے اس کے باوجود پسپائی اختیار کی۔

دوسری جانب حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ دنیا کو دولت اسلامیہ اور شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے دیگر سُنی جنگجو گروہوں سے وہ خطرہ ہے جس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔

انھوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں پہلی بار اعتراف کیا کہ حزب اللہ شام میں صدر بشار الاسد کی جانب سے شام میں لڑ رہی ہے۔

چھوٹے ایٹمی ہتھیار

عراقی وزیر اعظم نے امریکی وزیر دفاع کے بیان پر حیرت کا اظہار کیا۔

’مسٹر کارٹر عراق کے بڑے حامی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان کو غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ عراقی فوج دولت اسلامیہ کی چونکا دینے والی حکمت عملی سے پریشان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حسن نصراللہ نے پہلی بار اعتراف کیا کہ حزب اللہ شام میں صدر بشار الاسد کی جانب سے شام میں لڑ رہی ہے

’عراقی فوج میں لڑنے کا جذبہ ہے لیکن جب وہ داعش (دولت اسلامیہ) کے اچانک حملے کا سامنا کرتے ہیں ۔۔۔ بارود سے بھری بکتر بند گاڑیاں جن کا اثر وہی ہوتا ہے جو ایک چھوٹے جوہری ہتھیار کا ہوتا ہے تو اس کا ہماری فوج پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔‘

عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے دولت اسلامیہ کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے شیعہ ملیشیا کو تعینات کیا ہے۔ وہ پراعتماد تھے کہ رمادی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔

’رمادی پر دولت اسلامیہ کے قبضے پر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم رمادی پر دوبارہ بہت جلد قبضہ کر لیں گے۔‘

سنیچر کو شیعہ ملیشیا نے رمادی سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حصیبہ شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرا لیا تھا اور ملیشیا کے اہلکار مادی شہر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حیدر العبادی نے کہا کہ ایران اور اردن عراقی حکومت کی بڑی مدد کر رہے ہیں لیکن خلیجی ممالک کو اس حوالے سے ’خطرہ‘ محسوس ہوتا ہے لیکن خلیجی ممالک اس کو حقیقت پسندانہ انداز سے نہیں دیکھ رہے

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ ان کو بین الاقوامی اتحادیوں کی مزید مدد کی ضرورت ہے کیونکہ دولت اسلامیہ کے جنگجو شام سے عراق میں داخل ہوتے ہیں اور وہ جنگ کے نت نئے طریقے لے کر آتے ہیں۔

’عراق اور شام کی سرحد پر نگرانی سخت نہ کرنا ایک غلطی تھی۔ شام میں افراتفری ہے جس کے باعث دولت اسلامیہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ ہم نے اتحادیوں سے کہا ہے کہ سرحد پر نگرانی سخت کریں۔‘

حیدر العبادی نے کہا کہ ایران اور اردن عراقی حکومت کی بڑی مدد کر رہے ہیں لیکن خلیجی ممالک کو اس حوالے سے ’خطرہ‘ محسوس ہوتا ہے لیکن خلیجی ممالک اس کو حقیقت پسندانہ انداز سے نہیں دیکھ رہے۔

امریکہ نے عراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور ان کو مسلح کیا لیکن کئی موقعوں پر عراقی فوج نے امریکہ کا دیا ہوا اسلحہ دولت اسلامیہ کے حملے پر چھوڑ کر فرار اختیار کی۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ’ہم انھیں تربیت دے سکتے ہیں، مسلح کر سکتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ لڑنے کے لیے عزم تو نہیں دے سکتے۔‘

اسی بارے میں