ملائیشیا میں’تارکینِ وطن‘کی 139 اجتماعی قبریں دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تھائی لینڈ کے بعد ملائیشیا میں ملنے والی قبروں سے لاشوں کو نکالنے کا کام جاری ہے

ملائیشیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے میں تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب مشتبہ تارکین وطن کی 139 اجتماعی قبریں ملی ہیں۔

قومی پولیس کے سربراہ خالد ابو بکر کا کہنا ہے کہ یہ قبریں انسانی سمگلنگ کے 28 کیمپوں میں 11 سے 23 مئی کے درمیان چلائی جانے والی مہم کے نتیجے میں ملی ہیں اور کچھ قبروں میں ایک سے زیادہ لاشیں بھی ہو سکتی ہیں۔

ملائیشیا میں’تارکینِ وطن‘کی اجتماعی قبریں دریافت

پناہ گزینوں کے خطرناک بحری سفر کی کہانی

یہ قبریں تھائی سرحد کے قریب ملنے والے انسانی سمگلنگ کے کیمپ اور درجنوں کم گہری قبروں کے پاس ملی ہیں۔

اس سے قبل تھائی لینڈ میں قبروں کی دریافت کے بعد حکام نے اپنے علاقوں میں ان راستوں پر خاص مہم چلائی تھی جنھیں سمگلر تارکین وطن کو لے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس مہم کی وجہ سے سمگلروں کو اپنے راستے بدلنے پڑے اور ملائیشیا جانے کے شوقین تارکین وطن کو وہ سمندر کے راستے لے گئے لیکن ہزاروں افراد سمندر میں پھنس کر رہ گئے جنھیں کوئی بھی ملک لینے کو تیار نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ملائیشیا میں پہلی مرتبہ تارکینِ وطن کی اجتماعی قبریں ملی ہیں

مسٹر خالد نے اخباری نمائندوں کو بتایا: ’11 سے 23 مئی تک جاری رہنے والی مہم کے دوران ہم نے 139 ایسے مقامات تلاش کیے جو قبریں ہو سکتی ہیں۔‘

تھائي لینڈ میں جو قبریں ملی ہیں ان سے یہ قبریں سینکڑوں میٹر کے فاصلے پر ہیں۔

قبروں کی دریافت کے بعد انھوں نے کہا کہ سب سے بڑے کیمپ میں ممکنہ طور پر 300 تک افراد مقیم تھے۔

انھوں نے کہا: ’ہمارے افسروں پر مشتمل پہلی ٹیم آج صبح اس علاقے میں پہنچ گئی ہے جہاں وہ قبرکشائی کرے گي۔‘

حکام اس بات کی بھی یقین دہانی کرنے کی کوشش کریں گے کہ آیا یہ قبریں انسانی سمگلنگ کے شکار لوگوں کی ہیں۔

تھائی لینڈ کے اس روٹ سے بھی بہت قبریں ملی تھیں جہاں سے انسانی سمگلر برما سے جانیں بچا کر بھاگنے والے روہنجیا مسلمانوں کو لے کر جاتے تھے۔ لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ملائیشیا میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تھائی لینڈ کی بعض پوری کی پوری برادریاں سمگلروں کی مدد کرتی ہیں

اس سے قبل ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے کہا کہ انھیں ’ملائیشیا کی سرزمین پر قبریں پائے جانے پر گہری تشویش ہے جو کہ مبینہ طور پر انسانوں کی سمگلنگ سے متعلق ہیں۔‘

انھوں نے اپنے فیس بک پیج اور ٹوئٹر پر اس کے ذمے دار افراد کو تلاش کرنے کا عہد کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کی خصوصی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تھائی لینڈ کی بعض پوری کی پوری برادریاں سمگلروں کی مدد کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تھائی لینڈ کے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک دوسرے سمگلروں سے تارکینِ وطن سے بھری پوری کی پوری کشیاں خرید کر انھیں اس وقت تک جنگلوں میں چھپائے رکھتے تھے جب تک ان کے خاندان تاوان ادا نہیں کرتے۔ خیال ہے کہ ہجرت کرنے والے کئی لوگ یہاں بیماریوں اور بھوک سے ہلاک ہو گئے تھے۔

ہر سال ہزاروں لوگ تھائی لینڈ کے ذریعے غیر قانونی طور پر ملائیشیا لے جائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں