صوبہ انبار میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری فوجیں رمادی پر دوبارہ قبضے کے لیے حملے کی تیاری کر رہی ہیں

عراق میں حکومتی افواج نے صوبہ انبار سے دولت اسلامیہ کو نکالنے کے لیے باقاعدہ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ اعلان شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے ترجمان نے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں فوجیں اور ملیشیا جنوب کی جانب صلاح الدین صوبے کی جانب پیش قدمی کریں گے اور رمادی میں دولت اسلامیہ کا راستہ روکیں گے۔

رمادی اس ماہ کے آغاز میں دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلا گیا تھا اور عراقی فوجیں شہر سے پسپا ہو گئی تھیں۔

اس وقت سے حکومتی فوجیں شہر پر دوبارہ قبضے کے لیے حملے کی تیاری کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ دنوں میں انھوں نے رمادی کے مشرق کی جانب کچھ حصہ واپس حاصل کر لیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کے مطابق امریکہ نے اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیا ہے اور امریکی نائب صدر جو بائڈن نے امریکہ کی جانب سے مدد کا عندیہ دیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے غالب کردار پر بھی پریشانی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انبار صوبے کو دوبارہ حاصل کرنے کے آپریشن کو ‘لبیک یا حسین‘ کا نام دیا گیا ہے

الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسدی نے ٹی وی پر دکھائی گئی نیوز کانفرنس میں کہا کہ انبار صوبے کو دوبارہ حاصل کرنے کے آپریشن کو ‘لبیک یا حسین‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن ‘زیادہ طویل نہیں‘ ہو گا، اور اس لڑائی میں نئے ہتھیار استعمال کیے جائیں گے جس سے ‘دشمن حیران‘ ہو جائے گا۔

احمد الاسدی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور نیم فوجی دستے رمادی کے شمال مشرق میں صحرا کی جانب جائیں اور اور پھر شہر کے گھیراؤ اور دوبارہ قبضے کی تیاری کریں گے۔

واضح رہے کہ پیر کو عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ عراقی فوج دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے رمادی ’چند دنوں‘ میں واپس لے سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے عراق کو بین الاقوامی اتحادیوں کی جانب سے مزید مدد کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنی اکثریتی صوبے انبار میں شیعہ ملیشیا کو بھیجنے کے سلسلے میں عراقی حکومت ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے

اس سے قبل امریکہ کے وزیرِدفاع ایشٹن کارٹر کا کہنا تھا کہ صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی میں عراق افواج کی شکست ظاہر کرتی ہے کہ ان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے عزم کی کمی ہے۔

اس حوالے سے وزیراعظم العبادی کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ ایشٹن کارٹر کو غلط اطلاعات فراہم کی گئی ہیں۔

دولت اسلامیہ نے جنوری 2014 میں صوبہ انبار کے بیشتر حصوں پر قبـضہ کر لیا تھا۔ اب ان کا قبضہ دارلحکومت بغداد سے صرف 100 کلومیٹر فاصلے پر واقع شہر رمادی اور اس کی قریب فلوجہ شہر پر بھی ہے۔

عراق کے سنی اکثریت آبادی والے صوبہ انبار کی سرحدیں شام اور اردن کے ساتھ ملتی ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے عراقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ انبار میں کارروائی کے لیے شیعہ ملیشیا کو نہ بھیجیں کیونکہ اس سے مقامی سنی جہادیوں کی حمایت پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں