لیبیا کے وزیرِاعظم قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیبیا سنہ 2011 میں سابق صدر معمر قذافی کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد افراتفری کا شکار ہے

لیبیا کے شہر طبرق میں مسلح افراد نے ملک کے وزیرِ اعظم عبداللہ الثني کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے مگر وہ اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔

وزیرِ اعظم کی گاڑی پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ پارلیمان کے اجلاس کے بعد واپس جا رہے تھے۔

عبداللہ الاثنی نے ٹی وی نیوز چینل العربیہ کو بتایا ’خدا کا شکر ہے کہ ہم محفوظ رہے۔‘

لیبیا کی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے وزیرِ اعظم کا ایک محافظ حملے میں زخمی ہوا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا سنہ 2011 میں سابق صدر معمر قذافی کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد افراتفری کا شکار ہے۔

لیبیا کے وزیرِ اعظم سنہ 2014 سے شدت پسندوں کی جانب سے دارالحکومت تریپولی سے دھکیلے جانے کے بعد طبرق سے حکومت چلا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لیبیا کی پارلیمان کے باہر مظاہرین نے وزیرِ اعظم عبداللہ الاثنی کے خلاف منگل کو مظاہرہ بھی کیا تھا۔

مظاہرین نے پارلیمان کی عمارت کے باہر ایک گاڑی کو آگ لگا دی اور اطلاعات کے مطابق سپیکر عقیلا صالح نے وزیرِ اعظم کو اپنے جان بچانے کے لیے چلے جانے کو کہا تھا۔

مارچ سنہ 2014 میں اقتدار میں آنے والے لیبیا کے وزیرِ اعظم عبداللہ الاثنی ملک میں اپنی حاکمیت ثابت کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔

اسی بارے میں