کیا دولتِ اسلامیہ واقعی جیت رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ نے شام میں پلمائرا پر قبضہ کرنے کے بعد بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا

ایک ہفتے کی پریشان کن سرخیوں کے بعد کیا دولتِ اسلامیہ واقعی جیت رہی ہے؟

اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ کہاں۔

دولتِ اسلامیہ نے شام میں پیلمائرا پر قبضہ کرنے کے بعد بہت سے لوگوں کو ظالمانہ طریقے سے قتل کر دیا ہے، جس سے صدر بشار الاسد کی حکومت شدید مشکل میں نظر آ رہی ہے، اور ان کی فوج اس جنگ میں زیادہ موثر نہیں رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے مغربی ممالک کی جانب سے بشار الاسد کی مدد کے لیے آنے میں ہچکچاہٹ کا بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ کامیابی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور اس نے حزبِ اختلاف کی اعتدال پسند تنظیموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

تاہم عراق میں صورت حال مختلف ہے، چاہے بظاہر ایسا محسوس نہ ہو۔ رمادی کے ہاتھوں سے نکل جانے سے عراقی فوج کی قیادت میں پریشان کن کمزوری نظر آئی ہے۔

گذشتہ دنوں بہت سے ممالک کے اخبارات میں یہ خبریں آئیں کہ دولتِ اسلامیہ رمادی سے نکل کر بغداد کی جانب بڑھنے کی دھمکی دے رہی ہے جو صرف سو کلومیٹر دور ہے۔

اس میں ذرا بھر حقیقت نہیں تھی۔ شروع میں رمادی پر قبضے کے حوالے سے عراقی حکومت کے لیے سب سے زیادہ ذلت کی بات یہ تھی کہ دولتِ اسلامیہ کے صرف ڈیڑھ سو جنگجوؤں نے وہاں سے 1500 سرکاری فوجیوں کو وہاں سے نکال کر شہر پر قبضہ کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رمادی پر قبضہ دولتِ اسلامیہ کی زبردست حکمتِ عملی تھی جو بےحد موثر ثابت ہوئی لیکن کوئی بڑی فوجی فتح نہیں تھی

یہ ڈیڑھ سو جنگجو جنھیں بعد میں چند سو جنگجوؤں نے آ کر مدد فراہم کی، ایسی پوزیشن میں نہیں تھے کہ رمادی کا دفاع بھی کریں اور بغداد پر حملہ بھی کریں۔

بعد میں یہ واضح ہو گیا کہ رمادی پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ایک شخص کے غلط فیصلے اور عزم کی کمی کی وجہ سے ہوا ہے اور وہ تھے رمادی شہر کے بریگیڈیئر ان کمانڈ، جو تھکاوٹ کی وجہ سے یا پھر خوف کی وجہ سے کمزور پڑ گئے تھے۔

وہ رمادی میں اپنے عہدے پر مہینوں تک فائز رہے اور دولتِ اسلامیہ کے ساتھ لڑتے رہے اور بعد میں انھیں اس بات کا یقین دلایا گیا کہ دولتِ اسلامیہ اس موقعے پر خطرناک دھماکہ خیز مواد کے ساتھ شہر تباہ کرنے والی ہے۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کو فوراً شہر سے باہر نکلنے کا حکم دیا۔

یہ دولتِ اسلامیہ کی زبردست حکمتِ عملی تھی جو بےحد موثر ثابت ہوئی لیکن کوئی بڑی فوجی فتح نہیں تھی۔

دولتِ اسلامیہ تعلقاتِ عامہ کے لحاظ سے زبردست مہم چلاتی ہے۔ وہ ایسی ویڈیوز جاری کرتے رہتی ہے جن میں ایک طرف ان کی ستائش ہوتی ہے تو دوسری جانب دہشت بھی پھیلتی ہے۔ گذشتہ برس انھوں نے 360 وڈیوز جاری کیں جس کا مطلب ہے تقریباً ایک دن میں ایک ویڈیو۔

جو خوف وہ اپنی دہشت ناک ویڈیوز کے ذریعے پھیلاتے ہیں اس سے ان کا بہت سا کام آسانی کے ساتھ ہو جاتا ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

Image caption گذشتہ دنوں وزیراعظم حیدر العبادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنوں میں رمادی پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیں گے

دوسری جانب عراقی حکومت تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے زیادہ موثر نہیں رہی ہے۔ وہ اپنی کامیابیوں کے بارے میں لوگوں کو بتانے میں بہت سست رہی ہے۔ بغداد میں موجود بین الاقوامی صحافیوں کو اکثر اوقات فوج کا کارکردگی اور کامیابیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عراقی حکومت کے دولتِ اسلامیہ کو تقریباً تمام محاذوں پر پیچھے دھکیلنے کے دعووں پر دنیا بھر میں شبہات پائے جاتے ہیں۔

گذشتہ دنوں جب وزیراعظم حیدر العبادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند دنوں کے اندر اندر رمادی پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیں گے اور بغداد میں موجود مغربی سفیروں نے بھی اسی قسم کی پیش گوئی کی تھی تو اس پر یقین نہیں کیا گیا۔

جب فوجیوں نے گذشتہ ہفتے بغداد کے شمال میں بیجی قصبے کی جانب لڑائی کا آغاز کیا تو اس خبر نے بین الاقوامی سطح پر بہت کم توجہ حاصل کی۔ حالانکہ بیجی رمادی اور دولتِ اسلامیہ کے عراق میں مرکز موصل کے درمیان انتہائی اہم جگہ ہے۔

ان میں سے کوئی بھی چیز اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ عراقی حکومت دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ جیت رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں رمادی جیسے مزید قصبے بھی عراقی حکومت کے ہاتھ سے نکل جائیں، اور شاید کوئی ایسا بڑا شہر بھی دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں چلا جائے جیسا گذشتہ برس موصل سرنگوں ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیعہ مسلمانوں نے سنیوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں رضاکارنہ طور پر ملیشیا فورسز میں شمولیت اختیار کی ہے

تاہم اس بات پر یقین کرنا بہت مشکل ہے اس بات پر یقین کرنے سے جو عبادی نے کہی ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک دولتِ اسلامیہ کو عراق سے باہر نکال دیں گے۔

حکومت جانتی ہے کہ وہ عراقی فوج پر زیادہ انحصار نہیں کر سکتی۔ اسی لیے وہ زیادہ توجہ رضاکارانہ طور پر لڑنے والوں کے دستے بنانے پر دے رہی ہے جسے مغرب میں ملیشیا کہا جاتا ہے۔

شیعہ مسلمانوں نے سنیوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں رضاکارنہ طور پر ملیشیا فورس میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کے بعد سنی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ شیعہ آرمی رمادی اور موصل میں سنی باشندوں کے خلاف فرقہ وارانہ لڑائی کا آغاز کر دیں گے۔

حکومت وہ سب کر رہی ہے جس سے نقصان میں کمی ہو سکے لیکن خدشات اپنی جگہ برقرار ہیں۔

بہر حال ملشیا کے آنے سے حکومت کو ایک ایسا ہتھیار ملا ہے جس سے وہ دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ وہ رمادی اور فلوجہ کی جابب پیش قدمی کر رہے ہیں اور کردوں کے ساتھ مل کر وہ موصل پر دوبارہ قبضہ کرنے حاصل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جنگ جیتنا ابھی باقی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب بات دولتِ اشلامیہ کے خلاف لڑنے کی ہو تو عراق شام سے نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔

اسی بارے میں