روس کی چار روزہ فوجی مشق میں 12 ہزار فوجی شریک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ فوجی مشق اسی دن شروع ہوئی ہے جب نیٹو اور اس کے بعض اتحادیوں نے قطب شمالی تربیتی مشق کا آغاز کیا ہے

روسی وزارت دفاع کے مطابق روسی فوج نے اپنی وسیع فوجی مشق شروع کر دی ہے جس میں تقریباً 250 جنگی طیارے اور 12 ہزار فوجی شرکت کر رہے ہیں۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس مشق کا مقصد فوج کی جنگی تیاری کا اندازہ لگانا ہے۔

خیال رہے کہ یہ فوجی مشق اسی دن شروع ہوئی ہے جب نیٹو اور اس کے اتحادیوں نے قطب شمالی میں تربیتی مشق کا آغاز کیا۔

یوکرین میں روس کی سرگرمیوں اور مغربی ممالک کے فضائی حدود میں روسی دخل کی وجہ سے مغربی ممالک اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ مشق اس بڑی فوجی مشق کا پیش لفظ ہے جو آئندہ مہینے ہونی ہے اور اسے ’سنٹر-2015‘ کا نام دیا گيا ہے

روسی خبر رساں ایجنسیوں انٹر فیکس اور تاس کے مطابق اس مشق کے دوران ’کومی‘ ریپبلک میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے روس اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے طیارے کے ذریعے کروز میزائل داغنے کی مشق کرنے والا ہے۔

ماسکو میں بی بی سی کی نمائندہ کیرولن واٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشق اس بڑی فوجی مشق کا پیش لفظ ہے جو آئندہ مہینے ہونی ہے اور اسے ’سینٹر-2015‘ کا نام دیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین اور بعض دیگر باتوں پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے

روس کی خود اعتمادی کے بارے میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران نائب وزیر اعظم دیمتری روگوزن نے مذاق کے انداز میں کہا تھا کہ ’ٹینکس کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے‘۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال کرائمیا کو روس میں شامل کیے جانے پر لگائی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں یہ بے باک سیاست داں بھی یورپی یونین اور امریکہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہے۔

اسی بارے میں