ٹونی بلیئر مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی کا عہدہ چھوڑ دیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ٹونی بلیئر نے سنہ 2007 میں برطانیہ کی وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی کا عہدہ سنبھالا تھا

برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر جو امریکہ، روس، اقوامِ متحدہ اور یورپی اتحاد کے نمائندے کی حیثیت سے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی کے طور پر کام کر رہے ہیں اگلے ماہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔

ٹونی بلیئر کے قریب رہنے والی ایک شخصت نے بی بی سی کو بتایا ’ وہ اگلے ماہ چند کاموں کی تکمیل کے بعد عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔‘

ٹونی بلیئر نے سنہ 2007 میں برطانیہ کی وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انھوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو اپنے فیصلے کی تصدیق کے لیے خط لکھا ہے۔

تاہم پتہ چلا ہے کہ ٹونی بلیئر خطے میں ایک غیر رسمی کردار ادا کرنے میں ’متحرک رہیں گے۔‘

مشرقِ وسطیٰ میں چار طاقتوں کی نمائندگی کے ٹونی بلیئر کے دور کو کوئی بھی بڑی کامیابی تصور نہیں کرے گا۔ لیکن انھیں جو مینڈیٹ ملا تھا اس کو دیکھتے ہوئے کوئی اسے ناکامی بھی نہیں قرار نہیں دے گا۔

ٹونی بلیئر کے کردار کو اخباروں میں بڑی جگہ ملی تھی لیکن ان کی ذمہ داریوں کی نوعیت بہت بڑی نہیں تھی۔ ایلچی کا کام فلسطینی علاقوں میں معاشی ترقی لانا بھی تھا۔ انھیں موبائل فون سروس اور آنے جانے کی آزادی کے حوالے سے کچھ کامیابی ملی۔

سب کو علم ہے کہ فلسطینی معیشت کے بہتر ہونے کے لیے اگر کوئی معاہدہ نہیں تو کم ازکم سیاسی پیشرفت ہونی ضروری ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور یہ کہ ٹونی بلیئر کا اسرائیلیوں نے ساتھ معاملہ آرام دہ تھا اور فلسطینوں کو کبھی یہ احساس نہیں ہو سکا کہ انھوں نے اپنے کام کو پورا وقت دیا ہو۔

اگرچہ ان کے عہدے کا اختتام شاندار نہیں ہے لیکن ٹونی بلیئر کو ایسے خطے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانا مشکل ہے جہاں صرف چند ایک عالمی سفارت کار کامیاب ہوئے ہیں۔

ٹونی بلیئر کی قریبی شخصیت کا کہنا کہ لیبر پارٹی کے سابق سربراہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی کے دو ریاستی حل کے لیے مکمل طور پر ایک نئے طریقِ کار کی ضرورت ہے۔

ٹونی بلیئر اب اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے اور ان کے خیال میں یہ امن کے راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنے کی عالمی کوششوں میں مددگار ہوگا۔

’وہ اس پر بھی توجہ کریں گے کہ اسرائیل سے کہا جائے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جو ڈرامائی طور پر غزہ میں فلسطینیوں کی روزمرہ کی زندگی بہتر بنائیں۔

اسی بارے میں