دوسری جنگ عظیم کا بم ملنے کے بعد 20 ہزار افراد کا انخلا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دوسری جنگِ عظیم کے دوران اتحادی بمباروں نے کولون شہر کو نشانہ بنایا تھا

دوسری جنگِ عظیم کے ایک ٹن وزنی بم کو ناکارہ بنانے کے لیے جرمنی کے شہر کولون میں حکام نے تقریباً 20 ہزار افراد کو ان کےگھر چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔

شہر میں جنگ کے بعد ہونے والے سب سے بڑے انخلا کے دوران سکولوں اور نرسریوں کے ساتھ ساتھ چڑیا گھر بھی بند رہیں گے۔

رائہل کے علاقے میں ریٹائر ہونے والے اور معذور افراد کے لیے بنائے گئے مراکز میں رہنے والے تقریباً 1100 افراد کو بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ محفوظ جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

جرمنی میں ان پھٹے بموں کا ملنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران اتحادی بمباروں نے کولون شہر کو نشانہ بنایا تھا۔

ایک ہزار کلوگرام کا یہ بم میولیہم پل کے قریب سے ملا تھا۔ اسے بدھ کو ناکارہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

شہر کے حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس دوران جہاز رانی اور فضائی حدود بھی بند ہوں گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ بم جمعے کو پائپ لائن کی تعمیر کے لیے ہونے والی تیاری کے دوران ملا تھا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک امریکی طرز کا بم ہے جو زمین میں 16 فٹ نیچے دبا ہوا تھا۔ اس بم کے ملنے والے مقام سے ایک کلومیٹر کے دائرے میں علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے، اور وہاں بسنے والے چھ سو رہائشیوں کو بدھ کو وہاں سے نکال دیا گیا۔

جرمنی کے نیوز چینل این ٹی وی کے مطابق کیئر ہوم کے سربراہ اوٹو لوڈارف کا کہنا ہے کہ’یہاں سے نکالے جانے والے رہائشیوں کی اوسط عمریں 86 سال کے قریب ہیں اور اس انخلا سے ان پر جسمانی اور جذباتی بوجھ پڑا ہے۔‘

جرمنی میں ہر سال سینکڑوں ان پھٹے بم دریافت کیے جاتے ہیں۔ عام طور پر انھیں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا لیا جاتا ہے۔ تاہم سنہ 2010 میں ایک بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش میں تین اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

سنہ 2011 میں جرمنی میں سنہ 1945 کے بعد سے بم کو ناکارہ بنانے کا سب سے بڑا آپریشن کیا گیا تھا، جس میں دوسری جنگ عظیم کے دو بم رائہن دریا میں سے ملے تھے اور انھیں کولبینز میں ناکارہ بنانے کے لیے رکھا گیا تھا۔

اسی بارے میں