چین: سنکیانگ میں دہشت گردوں کے خلاف ’کامیاب‘ کارروائی

ایویغور تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اویغور لوگ علاقے کی آبادی کا نصف حصہ ہیں

چین میں حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے مغربی خود مختار صوبے سنکیانگ میں ایک سال پر محیط آپریشن میں 81 دہشت گرد گروہ پکڑے ہیں، جن میں سے اکثر منصوبہ بندی کے مرحلے میں ناکام بنا دیے گئے تھے۔

یہ ایک ہائی پروفائل مہم کا حصہ ہے جس کا نام ’کریک ہارڈ سپیشل آپریشن‘ رکھا گیا تھا اور اسے گذشتہ سال 23 مئی کو سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں اس وقت لانچ کیا گیا تھا جب وہاں خود کش حملوں میں 39 افراد مارےگئے تھے۔

چین کے میڈیا کے مطابق دہشت گردوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف مہم کا بہت فائدہ ہوا ہے اور 112 افراد نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق عام آدمیوں نے بھی جرائم کی اطلاعات دے اس آپریشن کی بڑی حمایت کی ہے۔ ان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ قانونی طریقۂ کار اپنایا جائے اور مدعا علیہان کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ دہشت گرد گروہوں سے بیجنگ کا کیا مطلب ہے۔ سنکیانگ جانا اتنا آسان نہیں اس وجہ سے اس کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔

چین کے حوالے سے بھی اتنے زیادہ دہشت گرد گروہوں کو پکڑنا ایک کافی بڑا کام تھا۔

ایک طرف مسلح پولیس کے گشت، علاقے پر نظر اور گھروں کے معائنے میں اضافہ کر دیا گیا تھا اور دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیاد پرستی کو روکنے والے پروگرام شروع کیے گئے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی ویڈیوز اور غیر قانونی شادیوں میں ملوث جرائم پیشہ افراد کو بھی پکڑا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ کریک ڈاؤن سنکیانگ کے دارالحکومت میں ارومچی میں جان لیوا حملوں کے بعد کیا گیا

اس بات کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ ان رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا کہ جب یہ کریک ڈاؤن کیا جا رہا تھا تو اس وقت بھی کئی حملے کیے گئے تھے، جن میں 12 اکتوبر کو کاشغر میں ہونے والا وہ حملہ بھی شامل تھا جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

18 نومبر کو بھی شاچے کے زیرِ انتظام علاقہ بھی شامل ہے جس میں 11 حملہ آوروں سمیت 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لیکن ایک سکیورٹی آپریشن کی طرف اشارہ بھی کیا گیا جس میں تقریباً 10,000 لوگوں نے مدد کی۔

چین کی تشدد زدہ صوبہ سنکیانگ میں رہنے والے اویغور، جن کی آبادی تقریباً ایک کروڑ ہے ،ایک عرصے سے چینی حکومت کے مبینہ عتاب کا نشانہ رہے ہیں۔ اویغور ترکستانی زبان بولتے ہیں اور یہ لوگ زیادہ تر مسلمان ہیں۔

خیال رہے کہ چین کی حکومت سنکیانگ کے علیحدگی پسندوں کو ملک میں ہونے والی حالیہ پر تشدد کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں میں چند برسوں میں تیزی آئی ہے اور انھوں نے صوبے سے باہر بھی کارروائیاں کی ہیں۔

مارچ 2014 میں یونان صوبے میں مسلح حملہ آوروں نے کنمنگ ٹرین سٹیشن پر چاقوں سے 29 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ حکام نے اس واقعے کو چین کا 9/11 قرار دیتے ہوئے سنکیانگ کے علیحدگی پسندوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں چین کی حکومت پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ اویغور اقلیت پر تشدد اور ثقافتی اور مذہبی جبر کر رہی ہے۔

اسی بارے میں