نیبراسکا امریکہ کی 19 ویں ریاست جہاں موت کی سزا ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریاست کی اسمبلی میں موت کی سزا ختم کرنے کے حق میں 30 جبکہ مخالفت میں 19 ووٹ ڈالے گئے

امریکی ریاست نیبراسکا کی قانون ساز اسمبلی نے گورنر کے ویٹو کو منسوخ کرتے ہوئے موت کی سزا ختم کر دی ہے۔

موت کی سزا ختم کرنے کے بل کی حمایت اعتدال پسندوں کے اتحاد نے کی جو سزائے موت کے مخالف ہیں۔

نیبراسکا چار دہائیوں میں پہلی اعتدال پسند ریاست ہے جس نے سزائے موت ختم کی ہے۔ اس کے علاوہ نیبراسکا کے اس ووٹ کے بعد اس کا شمار 18 دیگر ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن میں ہو گیا ہے جہاں موت کی سزا ختم کی گئی ہے۔

نبراسکا میں آخری بار سزائے موت 1997 میں دی گئی تھی۔

ریاست کی اسمبلی میں گورنر پیٹ رکٹس کے ویٹو کو منسوخ کرتے ہوئے موت کی سزا ختم کرنے کے حق میں 30 جبکہ مخالفت میں 19 ووٹ ڈالے۔

چند ارکانِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ انھوں نے سزائے موت کی حمایت اصولی طور پر کی تھی لیکن ان کا کہنا تھا کہ قانونی رکاوٹوں کے باعث مستقبل میں ریاست میں سزائے موت نہیں دی جا سکے گی۔

اس وقت نیبراسکا میں دس افراد ہیں جن کی موت کی سزا پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

نیبراسکا میں موت کی سزا پر عمل درآمد مہلک ٹیکے سے کیا جاتا ہے لیکن ریاست میں اب تک کسی کی سزائے موت دینے کے لیے یہ طریقہ استعمال نہیں کیا گیا۔

دسمبر 2013 میں ریاست سزائے موت پر عمل درآمد کی اہلیت اس وقت کھو بیٹھی جب مہلک ٹیکے میں استعمال کی جانے والی تین میں ایک دوا کی استعمال کی مدت گزر گئی۔

ایک اور معتدل ریاست نارتھ ڈیکوٹا نے 1973 میں سزائے موت ختم کر دی تھی۔

اسی بارے میں